برطانوی وزیر ترقی کی ملاقات‘ روابط بڑھانے پر اتفاق‘ ریکوری میں بہتری آئی: اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے برطانیہ کی وزیر برائے ترقی بیرونس چچیپمین نے ملاقات کی، اس موقع پر برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ اور دوسرے اعلی حکام بھی موجود تھے، ملاقات میں دو طرفہ اور اقتصادی امور پر بات چیت کی گئی، وزیر خزانہ نے ائی ایم ایف میں برطانیہ کی طرف سے پاکستان کی حمایت کی۔ تحسین کی جس کے باعث پاکستان کا ریویو کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ ملاقات میں استحکام حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی مائیکرو اکنامک کاوشوں پر بات چیت کی گئی۔ دونوں ممالک کے درمیان معاشی استحکام اور ساختی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ توانائی سیکٹر کی بہتری‘ قرضوں کے انتظام اور سرکاری اداروں میں اصلاحات، پنشن میں اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، سماجی شعبوں کیلئے مالی گنجائش بڑھانے پر بھی گفتگو کی گئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس بیس میں توسیع اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ریکوری بہتر ہو رہی ہے۔ کلائمیٹ ریزیلینس میں وفاقی و صوبائی روابط مضبو بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔