Al Qamar Online:
2026-06-03@05:31:45 GMT

وزیرِ خزانہ کا ڈھانچہ جاتی اصلاحات جاری رکھنے کا عزم

اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT

وزیرِ خزانہ کا ڈھانچہ جاتی اصلاحات جاری رکھنے کا عزم

وزیرِ خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب بڑھنے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے عمل کو مسلسل جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

وہ دوحہ فورم کے تیئیس ویں ایڈیشن میں منعقدہ سیشن ’’گلوبل ٹریڈ ٹینشنز: اکنامک امپیکٹ اینڈ پالیسی ریسپانسز اِن مینا‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے، سرکاری اداروں کی بہتری اور نجی شعبے کی ترقی کے لیے مستقل اور مضبوط اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

قطر کے وزیرِ خزانہ علی بن احمد الکواری نے اس موقع پر پاکستان اور قطر کے درمیان مضبوط اور فروغ پاتی شراکت داری کا ذکر کیا، خصوصاً ایل این جی کی فراہمی اور پاکستان سے زرعی و ٹیکسٹائل مصنوعات کی درآمدات کے حوالے سے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قطر پاکستان کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی حکمتِ عملی اور صلاحیت سازی کے شعبے میں تعاون کا خواہاں ہے۔

آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر بو لی نے پاکستان کی اصلاحاتی پیش رفت اور لچک پیدا کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے درست سمت میں آگے بڑھنے کی بہترین مثال قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ سات ارب ڈالر کے استحکام پروگرام کے علاوہ آئی ایم ایف پاکستان کو مزاحمت اور پائیداری کے لیے ایک ارب تیس کروڑ ڈالر بھی فراہم کر رہا ہے، جس کا مقصد مالیاتی، معاشی اور ماحولیاتی لچک کو مضبوط بنانا ہے۔ ان کے مطابق یہ پروگرام پاکستان کو گرین بجٹنگ، مالیاتی ضابطہ کاری میں موسمیاتی خطرات کے تجزیے کے انضمام، موسمیاتی ڈیٹا کے بہتر انکشاف اور پائیدار انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی میں مدد دے گا۔

مباحثے کے دوران پاکستان کے امریکہ اور چین کے ساتھ بدلتے ہوئے تعلقات پر بھی گفتگو ہوئی۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف حقیقت پسندانہ اور قومی مفاد پر مبنی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان چین اور امریکہ دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو تکمیلی سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ سی پیک فیز ٹو کا آغاز ہو چکا ہے، جو اب حکومت سے حکومت کی سطح کے بجائے کاروبار سے کاروبار کے تعاون پر مبنی ہوگا، جبکہ امریکہ کے ساتھ معدنیات، مائننگ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انہوں نے کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد