پنجاب حکومت کے عظیم الشان ’تاریخی لاہور بحالی پروگرام‘ کے تحت شہر کے قلب میں واقع 350 سال پرانا شاہکار مغلیہ فن تعمیر نیلا گنبد اپنی اصل خوبصورتی اور شان و شوکت واپس لایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا نوازشریف سیاسی سرگرمیاں چھوڑ کر لاہور کا تاریخی ورثہ بحال کروائیں گے؟

یہ اپنے نیلے رنگ کے شاندار ٹائلز کی وجہ سے نیلا گنبد کہلاتا ہے اور سنہ 1673-74 میں مغل دور کے مشہور روحانی بزرگ حضرت عبدالرزاق مکی رحمۃ اللہ علیہ کے مقبرے کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔

دہائیوں تک اس تاریخی یادگار کے چاروں طرف دکانیں، ہوٹل اور مکانات بن جانے کی وجہ سے یہ عظیم الشان عمارت تقریباً نظر سے اوجھل ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ زیادہ تر شہریوں کو اس کے وجود کا بھی پتا نہیں تھا۔ سنہ 1984 میں اس کی معمولی تزئین و آرائش ضرور کی گئی تھی مگر اصل خوبصورتی چھپی رہی۔

مزید پڑھیے: وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا ’میگنیفیسنٹ پنجاب‘ میگا ٹورسٹ منصوبہ کیا ہے؟

اب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خصوصی احکامات پر والڈ سٹی لاہور اتھارٹی اور محکمہ آثار قدیمہ نے بھرپور ایکشن لیتے ہوئے نیلے گنبد کے گردونواح سے تمام غیر قانونی دکانیں، مکانات اور تجاوزات مکمل طور پر مسمار کردی ہیں اور اس عظیم الشان ورثے کی بحالی کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تجاوزات حضرت عبدالرزاق مکی رحمۃ اللہ علیہ لاہور نیلا گنبد.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تجاوزات حضرت عبدالرزاق مکی رحمۃ اللہ علیہ لاہور نیلا گنبد نیلا گنبد

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی