بانی اور پی ٹی آئی ملک دشمن، پابندی کیلئے پنجاب اسمبلی میں قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) پنجاب اسمبلی میں بانی پی ٹی آئی پرپابندی اور 27ویں ترمیم کے حق میں قرارداد منظور کرلی گئی جبکہ مفاد عامہ سے متعلق بھی پانچ قراردادیں منظور کی گئیں۔ پانچ بل متعارف کرائے گئے ہیں جبکہ چھ بلوں کی منظوری دی گئی، ایجنڈا مکمل ہونے کے بعد سپیکر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈیڑھ گھنٹہ کی تاخیر سے پینل آف چیئر مین سمیع اللہ خان کی صدارت میں شروع ہوا۔حکومتی رکن اسمبلی محمد طاہر پرویز نے بانی پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی قرارداد اسمبلی میں پیش کی کہ دشمن ملک کی آلہ کار پارٹی اور اس کے بانی و لیڈر پر پابندی لگائی جائے۔ حکومتی رکن سارہ احمد نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرنے اور مریم نواز کی برازیل میں سی او پی میں پنجاب کی ماحولیاتی ترجیحات اور ماحولیاتی وعدوں کو موثر انداز میں پیش کرنے کی قراردادپیش کی جو متفقہ طورپر منظور کر لی۔ 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں قرارداد متفقہ طورپرمنظور کر لی گئی،قرارداد مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ نے پیش کی۔ پینل چیئرمین سمیع اللہ خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ گھنٹہ لیٹ شروع کرنے کے باوجود وزراء کی عدم موجودگی افسوسناک ہے۔ پرائیویٹ ممبر ڈے پر وزراء کی کوئی دلچسپی نظر نہیں آ رہی۔ حکومتی رکن امجد علی جاوید کی ایجوکیشن کے متعلقہ نوٹس برائے زیروآور کو وزیر تعلیم کی عدم موجودگی کے باعث ملتوی کر دیا گیا جبکہ آفتاب احمد خان، طیب راشد، فیلبوس کرسٹو فر، جاوید نیاز منج، شگفتہ فیصل اور محمد طاہر پرویز کے نوٹسز برائے زیرو آور متعلقہ ارکان کی عدم موجودگی کے باعث نمٹا دئیے گئے، پرائیویٹ ڈے کے موقع پر ممبران کے اِجلاس میں پانچ بلز کو متعارف کرا ئے گئے جنہیں متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردیا گیا،اوردو ماہ میں رپورٹ طلب کر لی،پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سید حسن مرتضی کے والد کے ایصال ثواب کیلئے دعائے مغفرت کی گئی،سکلز ڈویلپمنٹ اینڈ انٹر پرینیوشپ ڈیپارٹمنٹ کے وقفہ سوالات کے دوران ڈیپارٹمنٹ سیکرٹری کی عدم موجودگی پر پینل آف چیئرمین سمیع اللہ خان نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ دی پنجاب یونیورسٹی‘ دی پریمیر یونیورسٹی، دی پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف وویمن ایٹ ورک پلیس ایمنڈ منٹ‘دی پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ایمنڈمنٹ بل، دی نیکسس یونیورسٹی سیالکوٹ ایمنڈمنٹ بل ایوان میں پیش کر دیئے گئے جو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کرکے دو ماہ میں رپورٹ طلب کر لی،پنجاب اسمبلی میں چھ بلوں کی منظوری دیدی گئی جن میں منہاج یونیورسٹی، دی کراونرج یونیورسٹی، دی ٹائمز یونیورسٹی ملتان ، علی ابن عثمان انسٹی ٹیوٹ، دی سپیرئیر یونیورسٹی، دی اخوت انسٹی ٹیوٹ قصور بل کثرت رائے سے منظو کر لئے گئے۔ ایوان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے خود مختار کمیشن کے قیام کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی، قرارداد رکن اسمبلی راحیلہ خادم حسین اور فیلبوس کرسٹوفر نے پیش کی۔ ایجنڈا مکمل ہونے پر پینل آف چیئرپرسن ذوالفقارعلی شاہ نے پنجاب اسمبلی کااجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی عدم موجودگی پنجاب اسمبلی اسمبلی میں پیش کی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔