پاکستان کے داخلی معاملات میں شورش، نظام کو پیچھے دھکیلا جا رہا ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
پاکستان کے داخلی معاملات میں شورش، نظام کو پیچھے دھکیلا جا رہا ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان WhatsAppFacebookTwitter 0 9 December, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز)اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان ے کہا ہے کہ پاکستان کے داخلی معاملات میں ایک شورش ہے، ایسے لگتا ہے جیسے نظام کو پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔پنجاب اسمبلی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اگر ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوگا تو معیشت نہیں چلے گی۔ کسی ایک سیاسی حریف پر ایک بھی سیاسی مقدمہ ثابت ہوجائے تو استعفیٰ دیدوں گا۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ کیا آپ نے پارلیمنٹ کو مضبوط فوج کو کمزور کر کے کرنا ہے۔ آپ خود فوج کی پیدوار ہیں آپ کس منہ سے فوج کے خلاف بات کر سکتے ہیں۔ پاپولر ہونا کیا ہوتا ہے ۔میرے حلقے میں تو اپ بدترین شکست سے دوچار ہوئے تھے۔ اس ملک پر رحم کرو اس ملک سے کس چیز کی دشمنی کررہے ہو۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ایک گروہ بندی کی گئی تھی جس کے تحت پانچ ججز کے سامنے ہی پینتیس کیس لگے جو صرف ایک سیاسی جماعت کے خلاف تھے۔ سپریم کورٹ کے ذریعے ایک پولیٹکل پارٹی کو ختم کرنے کی باقاعدہ مہم چلی تھی۔اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ اسد قیصر نے کہا این ڈی یو میں جانے والے غدار ہیں، جب میں نے این ڈی یو میں کورس کیا تو اسد قیصر وہاں لیکچر دے رہے تھیتو پھر تو وہ غدار اعظم ہوئے، پی ٹی آئی کے پشاور جلسے میں وفاقی وزرا کیخلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی۔
ملک محمد احمد خان نے بتایا کہ میرے سامنے ایک بڑی شخصیت نے بانی پی ٹی ائی کو کال کی اور کہا کہ بس کریں حالات بہت خراب ہوگئے ہیں، اپ نے بدترین سیاسی انتقام جھوٹے مقدمات بنائے ہیں، کاروباری افراد کے کاروبار ختم کر دیے ہیں جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا میں نے ان کو چھوڑ دیا تو میری سیاست ختم ہوجائے گی۔ تو کیا اپ کے سیاست یہ ہے کہ اپ لوگوں پر جھوٹے مقدمات کریں لوگوں کے گھر گرا دیں؟۔انہوں نے کہا کہ نو مئی کے بعد دس مئی بھی آگیا جس نے میرا سر فخر سے بلند کیا، دس مئی نے اقوام عالم میں مجھے باعزت بنایا۔ میں ذاتی طور پر جنگوں کے خلاف ہوں، مجھے بارود خون اور لاشوں سے خوف اتا ہے۔ دس مئی کو فوج نے اپنی برتری زمین و آسمان پر قائم کی، رافیل گرتے میں نے دیکھے ہیں، بھارت اب بھی جنگ کا کھیل رہا ہے۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ آپ کے وزرا نے سندھ کے متعلق جو ہرزہ سرائی کی یہ پاکستانی فوج کو بھارتی ہدف بناتے ہیں، کیا فوج کی سنٹرل اتھارٹی کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں، فوجی سربراہ کو ٹارگٹ کریں تو اس سے بڑھ کر کیا دشمنی ہوگی، نو مئی میں 27 چھائونیوں پر ایک ہی دن ایک ہی وقت میں حملہ کرکے آگ لگا دی گئی، نو مئی کو لاہور کور کمانڈر کا گھر اور پاکستانی پرچم نذر آتش کیا گیا وہ لوگ ابھی سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس ہے، نو مئی کو جو پی ٹی ائی نے کیا وہ اچانک نہیں تھا، یہ باقاعدہ ایک سازش تھی جس کی باقاعدہ تیاری کی کئی گئی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسات سال شوہر کے بارے میں پتہ نا چلے تو خاتون آزاد ہو جاتی ہے، سندھ ہائیکورٹ سات سال شوہر کے بارے میں پتہ نا چلے تو خاتون آزاد ہو جاتی ہے، سندھ ہائیکورٹ عمران خان کی بہنوں نے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا دیدیا بشری بی بی بانی پی ٹی آئی کو دھوکا دینے کا سوچ بھی نہیں سکتیں،بہن مریم وٹو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ میں رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال ملک مزید انتشار اور کشیدگی کا متحمل نہیں ہوسکتا، سیاست سے لفظ کشیدگی ختم ہونا چاہئے، بیرسٹر گوہر ای سی سی نے گاڑیوں کی درآمد کے طریقہ کار میں تبدیلی کی منظوری دیدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ملک محمد احمد خان نے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پی ٹی آئی رہا ہے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔