ڈھاکا میں پھر زلزلے کے جھٹکے، مرکز نرسنگدی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
ڈھاکا اور آس پاس کے علاقوں کے رہائشیوں نے جمعرات کی صبح دوبارہ زلزلے کے ہلکے جھٹکے محسوس کیے۔ بنگلہ دیش موسمیاتی محکمہ (BMD) کے مطابق زلزلہ صبح 6:14 بجے آیا۔
حکام کے مطابق زلزلے کی شدت 4.1 ریکٹر اسکیل ریکارڈ کی گئی، اور اس کا مرکز شیب پور، نرسنگدی تھا، جو دارالحکومت کے ایگارگاؤں سیزمک مانیٹرنگ سینٹر سے قریباً 38 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
مزید پڑھیں: انڈونیشیا میں 6.
یورو میڈیٹرینین سیسمولوجیکل سینٹر (EMSC) کے مطابق مرکز گزپور کے ٹونگی سے 33 کلومیٹر مشرق شمال مشرق اور نرسنگدی سے قریباً 3 کلومیٹر شمال میں، 30 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔
یہ زلزلہ حالیہ ہفتوں میں بنگلہ دیش میں ریکارڈ کیے گئے متعدد چھوٹے اور درمیانے زلزلوں کی تازہ واردات ہے۔ سب سے حالیہ زلزلہ 1 دسمبر کو منجن، میانمار میں آیا تھا، جس کی شدت 4.9 تھی اور یہ چھوٹے علاقوں سمیت چٹا گونگ میں بھی محسوس ہوا۔
27 نومبر کو ڈھاکا میں ایک اور ہلکا زلزلہ 3.6 ریکٹر کی شدت کے ساتھ آیا، جس کا مرکز غوراشال، پلاش اپزائیلا، نرسنگدی تھا۔ اسی دن، سلہٹ اور ٹیکناف میں بھی جھٹکے ریکارڈ کیے گئے تھے۔
مزید پڑھیں: لانڈھی جیل بریک: قیدیوں کے فرار کی وجہ زلزلہ یا کچھ اور، تحقیقات کیا کہتی ہیں؟
حالیہ ہفتوں میں ڈھاکا اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں زلزلے کی سرگرمی غیر معمولی طور پر زیادہ رہی ہے۔ 21 سے 22 نومبر کے دوران، دارالحکومت اور قریبی اضلاع میں 31 گھنٹوں کے اندر 4 زلزلے آئے، جن میں سب سے شدید 5.7 ریکٹر کا زلزلہ مادھابدی، نرسنگدی کے قریب آیا، جس سے ملک بھر میں 10 ہلاکتیں اور 600 سے زائد زخمی ہوئے۔
حکام صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ حالیہ زیادہ تر زلزلے نرسنگدی کے علاقے سے جنم لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
BMD بنگلہ دیش ڈھاکا زلزلہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ڈھاکا زلزلہ کا زلزلہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔