اسلام آباد:

انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ ہر فرد کی عزت، مساوات اور انصاف کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور حکومت پاکستان انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ اسلام مذہبی و سماجی مساوات، انسانی وقار اور احترامِ انسانیت پر زور دیتا ہے جبکہ آئینِ پاکستان ہر شہری کو بلا امتیاز بنیادی حقوق اور آزادیوں کی ضمانت دیتا ہے۔

اپنے پیغام میں صدرِ مملکت نے بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کو ہم آہنگی، وقار اور مساوات کی بنیاد پر قائم ریاست کے طور پر تصور کیا تھا۔

صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں کمزور اور پسماندہ طبقات خصوصاً خواتین، بچوں، اقلیتوں اور خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے میں برداشت، احترام اور باہمی وقار کا ماحول پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ انسانی حقوق کے فروغ کے لیے سول سوسائٹی، تمام اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کا کردار انتہائی اہم ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کو اس دن کو عالمی سطح پر منانے اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے کئے گئے اقدامات پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔

آخر میں انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ انسانی وقار کے تحفظ، مساوات کے فروغ اور خوف، جبر و امتیاز سے پاک معاشرہ قائم کرنے کے لیے متحد ہو کر اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے ہماری کوششوں کو کامیاب فرمائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انسانی حقوق کے انہوں نے کے فروغ کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ