ٹرمپ کو میامی میں بھی بُری شکست، 30 سال بعد ڈیموکریٹس نے میئرشپ جیت لی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی میں تقریباً 30 سال بعد کسی ڈیموکریٹ امیدوار نے میئر کا انتخاب جیت لیا۔
ڈیموکریٹ ای لین ہیگنز نے ریپبلکن امیدوار ایمیلیو گونزالیز کو شکست دے دی، جنہیں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی۔
یہ کامیابی اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ میامی ہسپانوی نژاد ووٹرز کی اکثریت والا شہر ہے اور ٹرمپ کا سیاسی گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔
سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے کے اندر ہیگنز کی جیت کا اعلان کر دیا، کیونکہ ابتدائی نتائج میں وہ اپنے حریف پر 18 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل کیے ہوئے تھیں۔
میامی کا میئر الیکشن بظاہر غیر جماعتی ہوتا ہے، مگر اس بار یہ مقابلہ قومی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنا رہا۔
یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکنز کو بڑا دھچکا، ڈیموکریٹس کی 3 ریاستوں میں بڑی کامیابی
ہیگنز کی فیصلہ کن کامیابی گزشتہ ماہ ہونے والی ڈیموکریٹس کی متعدد انتخابی فتوحات کے تسلسل کا حصہ ہے، جنہوں نے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس پر ٹرمپ کی ممکنہ گرفت کو کمزور کر دیا ہے۔
دوسری جانب ریپبلکنز میں یہ خدشہ بھی بڑھ رہا ہے کہ 2024 میں ہسپانوی ووٹرز کی جو بڑی تعداد ٹرمپ کی طرف آئی تھی، وہ اب دوبارہ ڈیموکریٹس کی طرف لوٹ رہی ہے۔
61 سالہ ہیگنز نے اپنی کامیابی کو قومی سیاسی رجحانات کے بجائے مقامی سطح پر ’سالوں افراتفری اور بدعنوانی کے خاتمے‘ سے تعبیر کیا۔ وہ 1997 کے بعد پہلی ڈیموکریٹ میئر بن گئی ہیں۔ اسی سال فرانسس سوارز کے والد زاویئر سوارز نے بطور ڈیموکریٹ کامیابی حاصل کی تھی۔ ہیگنز میامی کی تاریخ کی پہلی خاتون میئر اور 1990 کی دہائی کے بعد پہلی غیرہسپانوی امیدوار ہیں جنہوں نے یہ عہدہ حاصل کیا ہے۔
میامی ڈیڈ کاؤنٹی کے نتائج بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ریپبلکنز کی قوت کمزور پڑ رہی ہے۔ گزشتہ سال ٹرمپ نے کاؤنٹی میں 55 فیصد ووٹ لیے تھے، لیکن اس بار انتخابی رجحان اس کے برعکس دکھائی دے رہا ہے۔
4 نومبر کے ابتدائی مرحلے میں ہیگنز نے 36 فیصد ووٹ لے کر برتری حاصل کی تھی، تاہم سادہ اکثریت نہ ملنے پر انہیں رن آف میں آنا پڑا۔ گونزالیز 18 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ انتخابی مقابلہ ابتدا میں غیر جماعتی تھا، لیکن ڈیموکریٹس کی حالیہ انتخابی کامیابیوں کے بعد مقابلہ قومی اہمیت اختیار کرتا گیا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کی قریبی ساتھی امریکی صدر کا ساتھ چھوڑ گئیں، سبب کیا بنا؟
17 نومبر کو ٹرمپ نے گونزالیز کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ووٹرز کو ان کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔ اس کے جواب میں ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی اور متعدد نمایاں ڈیموکریٹ رہنماؤں نے ہیگنز کی حمایت شروع کر دی، جن میں امریکی وزیر ٹرانسپورٹیشن پیٹ بٹیجیج بھی شامل تھے۔
ماہرین کے مطابق مقامی انتخابات سے قومی سطح کے رجحانات اخذ کرنا ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔ اس کی مثال میامی ڈیڈ کاؤنٹی کی میئر ڈینیلا لیوین کاوا ہیں، جو 2020 سے ڈیموکریٹ کے طور پر میئر منتخب ہو رہی ہیں، حالانکہ صدارتی انتخاب میں یہ کاؤنٹی ٹرمپ کے حق میں گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ڈونلڈ ٹرمپ ڈیموکریٹس ری پبلیکن پارٹی ریاست فلوریڈا میامی میئرشپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ڈونلڈ ٹرمپ ڈیموکریٹس ری پبلیکن پارٹی ریاست فلوریڈا میامی میئرشپ ڈیموکریٹس کی ٹرمپ کی حاصل کی
پڑھیں:
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
عالمی ردعملآسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
قانونی ماہرین کی رائےتجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ ٹیرف