پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن آج منایا جا رہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک:پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن آج منایا جا رہا ہے۔
10 دسمبر انسانی حقوق کا عالمی دن ہے، جس کا مقصد لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں آگاہی دینا، اقدام کا جائزہ لینا اور مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنا ہے، یہ دن 1948ء میں اقوام متحدہ میں منظور کردہ انسانی حقوق کے ایسے شاندار عالمی منشور کی یاد دلاتا ہے جسے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کا نام دیا گیا۔
پنجاب نے تمام صوبوں سے زیادہ 16.
اس قرارداد کے دنیا بھر میں تقریباً 375 زبانوں اور لہجوں میں تراجم شائع کئے جا چکے ہیں جس کی بنیاد پر اس قرار داد کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ تراجم کی حامل دستاویز کا اعزاز حاصل ہے۔
یہ قرارداد دوسری جنگ عظیم کے فوری بعد منظر عام پر آئی جس کی رو سے دنیا بھر میں پہلی بار ان تمام انسانی حقوق بارے اتفاق رائے پیدا کیا گیا جو ہر انسان کا بنیادی حق ہیں اور بلا امتیاز فراہم کئے جانے چاہئیں، اس قرارداد میں مجموعی طور پر 30 شقیں شامل کی گئی ہیں۔
ای سی سی کا پٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز اور او ایم سیز مارجنز میں 5 تا 10 فیصد اضافہ منظور
انسانی حقوق کے حوالے سے طاقتور ممالک اور دنیا کے اپنے پیرامیٹرز ہیں، عالمی طاقتوں کو بھارت میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر نہیں آتیں، مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
افسوس کہ بڑے ممالک کی خرابیوں کا نزلہ تیسری دنیا کے ممالک پر گرتا ہے اور پھر انہیں پوچھتا بھی کوئی نہیں، بنیادی انسانی حقوق قدرتی طور پر سب کو حاصل ہوتے ہیں، ہر ملک کے آئین اور قانون میں بھی انسانی حقوق شامل ہوتے ہیں۔
پنجاب اسمبلی نے پی ٹی آئی اور بانی پر پابندی کی قرارداد منظورکرلی
ادھر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں بدستور جاری رہیں، نہتے کشمیریوں کو مسلسل غیر انسانی سلوک، تشدد اور جبری پابندیوں کا سامنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: دنیا بھر میں
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔