یوکرین میں جلد انتخابات ہونے چاہئیں، ٹرمپ نے زیلنسکی کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین کو جلد از جلد انتخابات کرانے چاہئیں تاکہ عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ جنگ کو انتخابات نہ کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے روس کو برتری مل رہی ہے اور یوکرین اپنا کافی حصہ کھو چکا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یورپی ممالک امن مذاکرات میں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہے، اس لیے روس اور یوکرین میں امن معاہدہ کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یوکرینی عوام کو حق راۓ دینا چاہیے۔
دوسری جانب یوکرینی صدر زیلنسکی نے انتخابات کی حمایت کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ اگر بین الاقوامی شراکت دار یوکرین کو سکیورٹی کی ضمانت دیں تو وہ آئندہ 60–90 دنوں میں انتخابات کروانے کے لیے تیار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔