مرد اساتذہ پر ہائی و ہائر سیکنڈری جماعت کی طالبات کو پڑھانے پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مرد اساتذہ کی تعیناتی سے بچیوں کیلئے مسائل بڑھ رہے ہیں، لڑکیوں کے سکولوں میں صرف خواتین اساتذہ ہی تعینات کی جائیں۔ مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ مرد اساتذہ کے ذریعے تدریس پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، سکول انتظامیہ پالیسی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائے۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت پارٹنر سکولوں میں زیرِتعلیم طالبات کیلئے اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ پیف نے پارٹنر سکولوں کو فوری طور پر مرد اساتذہ کو ہٹانے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ لڑکیوں کے سکولوں میں مرد اساتذہ کی تعیناتی پر پیف نے شدید اظہارِ برہمی کیا ہے۔ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مرد اساتذہ کی تعیناتی سے بچیوں کیلئے مسائل بڑھ رہے ہیں، لڑکیوں کے سکولوں میں صرف خواتین اساتذہ ہی تعینات کی جائیں۔ مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ مرد اساتذہ کے ذریعے تدریس پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، سکول انتظامیہ پالیسی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائے۔ پیف حکام کے مطابق فیصلہ طالبات کے بہتر تعلیمی ماحول کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا گیا ہے کہ مرد اساتذہ مراسلے میں سکولوں میں
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔