بلوچستان سے کراچی موبائل فون اسمگلنگ ناکام، 2 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
کراچی میں پولیس نے خفیہ اطلاع پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کے نان کسٹم پیڈ موبائل فونز کی کھیپ برآمد کرلی۔
ایس ایس پی کیماڑی امجد احمد شیخ کے مطابق پولیس نے کارروائی کے دوران ایک آلٹو کار سے 170 کے قریب نان کسٹم آئی فون اورمختلف برانڈز کے اینڈرائیڈ فون قبضے میں لیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
ترجمان کے مطابق کارروائی میں 2 ملزمان سجاد اور نورحسن کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جنہوں نے ابتدائی تفتیش میں بلوچستان سے کراچی نان کسٹم موبائل فونز اسمگل کرنے کا انکشاف کیا ہے۔
پولیس نے اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی آلٹو کار بھی اپنی تحویل میں لے لی ہے۔
مزید پڑھیں:
ایس ایس پی کیماڑی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی جاری ہے اور اسمگلنگ کے اس نیٹ ورک کے دیگر کرداروں تک پہنچنے کے لیے تفتیش کو وسیع کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں نان کسٹم موبائل فونز کی اسمگلنگ ایک عرصے سے سیکیورٹی اداروں کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے، جس کے ذریعے نہ صرف قومی خزانے کو لاکھوں روپے کی کسٹم ڈیوٹی کا نقصان ہوتا ہے بلکہ غیر قانونی تجارت کے باعث مقامی مارکیٹ کا توازن بھی متاثر ہوتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آلٹو کار آئی فون اسمگلنگ امجد احمد شیخ اینڈرائیڈ بلوچستان پولیس کراچی کسٹم ڈیوٹی کیماڑی موبائل فون نان کسٹم پیڈ نیٹ ورک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آلٹو کار ا ئی فون اسمگلنگ اینڈرائیڈ بلوچستان پولیس کراچی کسٹم ڈیوٹی کیماڑی موبائل فون نان کسٹم پیڈ نیٹ ورک موبائل فون
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔