بلوچستان پولیس نے گاڑیوں کی چوری اور اسمگلنگ میں ملوث ایک جدید اور منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کردیا ہے، ایک گینگ کراچی میں گاڑیاں چوری کرنے کے بعد دوسرے گینگ کو کوئٹہ میں فروخت کر دیتا تھا پولیس حکام کے مطابق ان گاڑیوں کی خرید و فروخت کے لیے کرپٹو کرنسی کا استعمال ہو رہا تھا۔

پولیس کے مطابق اس گینگ نے لین دین کے روایتی طریقے چھوڑ کر ڈیجیٹل کرنسی کو اپنایا جس نے گینگ کو ٹریس ہونا مشکل بنا دیا تھا۔

مزید پڑھیں: کرپٹو کرنسی کو دیگر کرنسیز میں کیسے منتقل کیا جا سکتا ہے؟

ایس ایس پی سیریس کرائم انویسٹیگیشن ونگ عمران قریشی کے مطابق کراچی میں سرگرم ایک گینگ نئی اور مہنگی گاڑیوں کا تعاقب کرنے کے بعد ٹریکر بند کرنے کے انہیں چوری کرتا اور یہ چوری شدہ اور چھینی گئی گاڑیاں حب، وندر اور دشت کے خفیہ راستوں سے انہیں کوئٹہ منتقل کی جاتی تھی جہاں ایک دوسرا نیٹ ورک ان گاڑیوں کو نان کسٹم پیڈ یا بینک ڈیفالٹر اور نان کسٹم پیڈ کے نام پر سستے داموں فروخت کرتا تھا۔

عمران قریشی نے بتایا کہ نیٹ ورک کا انکشاف اس وقت ہوا جب چوری شدہ 2 گاڑیوں کی تحقیقات کی جا رہی تھی پولیس نے تحقیقات کے دوران کوئٹہ سے لیکر حب چوکی تک مختلف مقامات پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے چیک کیے، لوکیشن ٹریس اور تکنیکی شواہد کی مدد سے 3 ہفتے تک نگرانی کی، جس کے نتیجے میں پورا نیٹ ورک سامنے آگیا۔

مزید پڑھیں: بھارت کرپٹو کرنسی ریگولیشن کے لیے قانون سازی سے انکاری کیوں؟

2 مختلف گینگز کے درجنوں افراد سینکڑوں گاڑیاں کوئٹہ میں فروخت کرچکے تھے، جبکہ مزید 20 گاڑیاں مارکیٹ میں بیچنے کی تیاری تھی کہ کارروائی کے دوران 20 گاڑیاں برآمد کرلی گئیں۔ برآمد شدہ گاڑیوں کی مالیت 8 سے 10 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔

عمران قریشی نے بتایا کہ اس نیٹ ورک کے سہولت کار مختلف اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں، اور جن افراد نے یہ گاڑیاں خریدیں انہیں بھی ٹریس کیا جارہا ہے۔ پولیس نے مزید گرفتاریوں کے لیے سندھ پولیس سے مدد بھی طلب کرلی ہے، جبکہ برآمد شدہ گاڑیاں جلد کراچی میں اصل مالکان کے حوالے کی جائیں گی۔

گاڑیوں کی چوری میں کرپٹو کرنسی کا استعمال جرائم کے طریقے کار میں ایک نئی جدت ہے، جس نے نگرانی اور ٹریکنگ کے طریقوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ البتہ حکام کا دعویٰ ہے کہ تکنیکی شواہد کی بنیاد پر پورا نیٹ ورک جلد مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پولیس چوری کی گاڑیاں کراچی کرپٹو کرنسی کوئٹہ گینگ بے نقاب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پولیس چوری کی گاڑیاں کراچی کرپٹو کرنسی کوئٹہ گینگ بے نقاب کرپٹو کرنسی گاڑیوں کی نیٹ ورک کے لیے

پڑھیں:

پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار

کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں شرینہ کو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق شیریں شرینہ ملزمہ کو دونوں بیٹوں کے ساتھ کامران چورنگی سے گرفتار کیا گیا، ملزمہ ہیروئن، چرس اور دیگر منشیات فروخت کرتی تھی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ چند سال قبل گرفتار ہوکر جیل گئی تھی اور دو سال پہلے واپس آئی تھی، ملزمہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف 35 کے قریب مقدمات درج ہیں، ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سےدستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔پولیس حکام کا بتانا ہے کہ ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے ڈائریکٹ ہیروئن سپلائی کرتی تھی، گرفتار ملزمہ اور ملزمان سے مذید تفتیش کی جارہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق