کراچی سے چوری شدہ گاڑیوں کی کوئٹہ میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے خرید و فروخت کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
بلوچستان پولیس نے گاڑیوں کی چوری اور اسمگلنگ میں ملوث ایک جدید اور منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کردیا ہے، ایک گینگ کراچی میں گاڑیاں چوری کرنے کے بعد دوسرے گینگ کو کوئٹہ میں فروخت کر دیتا تھا پولیس حکام کے مطابق ان گاڑیوں کی خرید و فروخت کے لیے کرپٹو کرنسی کا استعمال ہو رہا تھا۔
پولیس کے مطابق اس گینگ نے لین دین کے روایتی طریقے چھوڑ کر ڈیجیٹل کرنسی کو اپنایا جس نے گینگ کو ٹریس ہونا مشکل بنا دیا تھا۔
مزید پڑھیں: کرپٹو کرنسی کو دیگر کرنسیز میں کیسے منتقل کیا جا سکتا ہے؟
ایس ایس پی سیریس کرائم انویسٹیگیشن ونگ عمران قریشی کے مطابق کراچی میں سرگرم ایک گینگ نئی اور مہنگی گاڑیوں کا تعاقب کرنے کے بعد ٹریکر بند کرنے کے انہیں چوری کرتا اور یہ چوری شدہ اور چھینی گئی گاڑیاں حب، وندر اور دشت کے خفیہ راستوں سے انہیں کوئٹہ منتقل کی جاتی تھی جہاں ایک دوسرا نیٹ ورک ان گاڑیوں کو نان کسٹم پیڈ یا بینک ڈیفالٹر اور نان کسٹم پیڈ کے نام پر سستے داموں فروخت کرتا تھا۔
عمران قریشی نے بتایا کہ نیٹ ورک کا انکشاف اس وقت ہوا جب چوری شدہ 2 گاڑیوں کی تحقیقات کی جا رہی تھی پولیس نے تحقیقات کے دوران کوئٹہ سے لیکر حب چوکی تک مختلف مقامات پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے چیک کیے، لوکیشن ٹریس اور تکنیکی شواہد کی مدد سے 3 ہفتے تک نگرانی کی، جس کے نتیجے میں پورا نیٹ ورک سامنے آگیا۔
مزید پڑھیں: بھارت کرپٹو کرنسی ریگولیشن کے لیے قانون سازی سے انکاری کیوں؟
2 مختلف گینگز کے درجنوں افراد سینکڑوں گاڑیاں کوئٹہ میں فروخت کرچکے تھے، جبکہ مزید 20 گاڑیاں مارکیٹ میں بیچنے کی تیاری تھی کہ کارروائی کے دوران 20 گاڑیاں برآمد کرلی گئیں۔ برآمد شدہ گاڑیوں کی مالیت 8 سے 10 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔
عمران قریشی نے بتایا کہ اس نیٹ ورک کے سہولت کار مختلف اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں، اور جن افراد نے یہ گاڑیاں خریدیں انہیں بھی ٹریس کیا جارہا ہے۔ پولیس نے مزید گرفتاریوں کے لیے سندھ پولیس سے مدد بھی طلب کرلی ہے، جبکہ برآمد شدہ گاڑیاں جلد کراچی میں اصل مالکان کے حوالے کی جائیں گی۔
گاڑیوں کی چوری میں کرپٹو کرنسی کا استعمال جرائم کے طریقے کار میں ایک نئی جدت ہے، جس نے نگرانی اور ٹریکنگ کے طریقوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ البتہ حکام کا دعویٰ ہے کہ تکنیکی شواہد کی بنیاد پر پورا نیٹ ورک جلد مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پولیس چوری کی گاڑیاں کراچی کرپٹو کرنسی کوئٹہ گینگ بے نقاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس چوری کی گاڑیاں کراچی کرپٹو کرنسی کوئٹہ گینگ بے نقاب کرپٹو کرنسی گاڑیوں کی نیٹ ورک کے لیے
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔