کچھ افراد حسد کرتے ہیں، علی حسن زہری کا تنقید پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
تنقید پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی وزیر علی حسن زہری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو میں نظر آنیوالی تمام گاڑیاں انکی ذاتی سکیورٹی کا حصہ ہیں۔ معمول کے دوروں میں ہمیشہ اپنی ہی سکیورٹی استعمال کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء و صوبائی وزیر علی حسن زہری نے سکیورٹی کے لئے متعدد گاڑیوں کے استعمال پر سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے اور عوامی تنقید پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو میں نظر آنے والی تمام گاڑیاں ان کی ذاتی سکیورٹی کا حصہ ہیں اور وہ اپنے معمول کے دوروں میں ہمیشہ اپنی ہی سکیورٹی استعمال کرتے ہیں۔ اگر ضرورت پڑے تو وہ مزید ذاتی گاڑیاں بھی ساتھ لے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند شرپسند عناصر غلط بیانی اور جھوٹے بیانیوں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
علی حسن زہری نے کہا کہ وہ نہ تو سرکاری گاڑیاں استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا پروٹوکول لیتے ہیں۔ پولیس کی موبائل صرف جرمن وفد کی سیکیورٹی کے لیے موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان پر اللہ کی خصوصی مہربانی ہے کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری ان کا بھرپور خیال رکھتے ہیں اور انہیں اپنی پرسنل SSU کی سکیورٹی بھی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں چاہیں گے تو اپنی مزید سفید ذاتی سکیورٹی گاڑیاں بھی ساتھ لے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد ان سے حسد میں مبتلا ہیں۔ عوام کی یہ محبت کم ذہنیت رکھنے والے پروپیگنڈا سازوں کے لیے درد سر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علی حسن زہری نے کہا کہ کرتے ہیں
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔