پشاور کے علاقے حسن خیل میں گیس پائپ لائن میں دھماکا دہشتگردی قرار
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
پشاور کے علاقے حسن خیل میں گزشتہ رات گیس پائپ لائن میں دھماکا دہشتگردی قرار دے دیا گیا۔پولیس کے مطابق دھماکا ریمورٹ کنٹرول بارودی مواد پھٹنے سے ہوا، بارودی مواد ڈیڑھ کلو گرام وزنی تھا۔پولیس نے پھٹنے والی گیس پائپ لائن کے مقام کا معائنہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان ایک آئی ای ڈی پائپ لائن کے ساتھ چھوڑ کر گئے تھے، چھوڑا گیا ڈیڑھ کلو گرام بارودی مواد بھی ناکارہ بنا دیا گیا ۔ واضح رہے کہ حسن خیل میں گزشتہ رات گیس پائپ لائن پھٹنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ دھماکے سے 24 انچ گیس پائپ لائن میں آگ لگ گئی تھی جس کے باعث کے پی کے مختلف شہروں کو گیس کی فراہمی متاثر ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گیس پائپ لائن
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک