ایرانی ٹاپ سیکیورٹی آفیشل علی لاریجانی کا دورہ، پاک ایران تعاون مزید مضبوط
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹر علی اردشیر لاریجانی نے 25 اور 26 نومبر 2025 کو پاکستان کا 2 روزہ سرکاری دورہ کیا جس دوران دونوں ممالک نے دیرینہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کی ملاقات، آئی ایس پی آر
وزارت خارجہ کے اعلامیے کے مطابق دورے کے دوران ڈاکٹر لاریجانی نے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک سے وفود کی سطح پر باضابطہ مذاکرات کیے۔
????PR No.
Visit of Secretary of the Supreme Council of the Islamic Republic of Iran to Pakistan (25-26 November 2025)https://t.co/B3jqb279Mj
????⬇️ pic.twitter.com/fuHzzPWDqU
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) November 27, 2025
انہوں نے صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم، اسپیکر قومی اسمبلی، نائب وزیرِ اعظم/وزیرِ خارجہ اور چیف آف آرمی اسٹاف سے بھی ملاقاتیں کیں۔
دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اتفاقملاقاتوں میں پاکستان اور ایران نے دوستی کے قدیم رشتے اور مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہبی اقدار کی بنیاد پر قائم تعلقات کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک نے سیاسی روابط، تجارت، اقتصادی تعاون، انسداد دہشتگردی، سرحدی تحفظ، علاقائی روابط اور ثقافتی و عوامی تبادلوں سمیت کئی شعبوں میں شراکت داری بڑھانے پر اتفاق کیا۔
خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر زورپاکستان اور ایران نے خطے میں امن کے لیے قریبی رابطے، تعمیری مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔
مزید پڑھیے: اظہار یکجہتی پر ایران کے شکرگزار ہیں، ایرانی ٹاپ سیکیورٹی آفیشل علی لاریجانی سےملاقات پر وزیراعظم کی گفتگو
دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ علاقائی اور عالمی فورمز پر مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔
مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے عزم کا اظہاراعلامیے کے مطابق دونوں جانب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تعلقات کو اس انداز سے آگے بڑھایا جائے جو مشترکہ خوشحالی اور علاقائی استحکام کا باعث بنے۔ پاکستان اور ایران نے مشترکہ مقاصد—استحکام، ترقی اور تعاون—کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
مزید پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر کے ترجمان علی لاریجانی کے دورہ پاکستان کے مقاصد کیا ہیں؟
دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیشرفتڈاکٹر لاریجانی کا یہ دورہ پاک ایران تعلقات میں موجود مثبت رفتار کو مزید تقویت دیتا ہے اور باہمی تعاون و مفاہمت کے نئے امکانات پیدا کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایرانی سپریم لیڈر کے ترجمان علی لاریجانی پاک ایران تعلقات پاک ایران دوستی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایرانی سپریم لیڈر کے ترجمان علی لاریجانی پاک ایران تعلقات پاک ایران دوستی علی لاریجانی
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔