کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بی اے پی کے ضلعی صدر نے کہا کہ شہر میں گیس پریشر نہ ہونے کے برابر ہے اور گیس پائپ سے ہوا آتی ہے۔ جس پر سوئی سدرن گیس کمپنی صارفین کو دو سے تین گناہ زیادہ بل بھیج رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان عوامی پارٹی کوئٹہ سٹی کے صدر احسان اللہ خاکسار نے کہا ہے کہ سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی کوئٹہ شہر میں گیس پریشر نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس سے بوڑھے، بچے بیمار ہو رہے ہیں۔ سوئی سدرن گیس کمپنی نے 10 روز کے اندر گیس پریشر بحال نہ کیا تو گیس دفتر کا گھیراؤ کریں گے۔ یہ بات انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کے آرگنائزر سیکرٹری ملک خدابخش لانگو، اقلیتی ونگ کے صوبائی صدر روز جان و دیگر کے ہمراہ بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ احسان اللہ خاکسار نے کہا کہ گیس بلوچستان سے نکلتی ہے، جو ملک کے دوسرے صوبوں کو فراہم کی جا رہی ہے۔ جبکہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے عوام اس قدرتی نعمت سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو تین ماہ سے کوئٹہ شہر اور سرد علاقوں میں گیس پریشر نہ ہونے کے برابر ہے اور گیس پائپ سے ہوا آتی ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی صارفین کو دو سے تین گناہ زیادہ بل بھیج رہی ہے، جسے بلوچستان کے عوام جمع کرانے کی استعداد نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود سوئی سدرن گیس کمپنی نے کوئٹہ شہر میں گیس پریشر ابھی تک نہیں بڑھایا ہے۔ سردی کی وجہ سے بچے، بوڑھے بیمار ہو رہے ہیں، جبکہ خواتین کو کھانا پکانے میں سخت مشکلات درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی عوام کی جماعت ہے، جو عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر سرد علاقوں میں گیس پریشر نہ ہونے کے خلاف ایوانوں میں بھی آواز بلند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر بلوچستان، وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر حکام بالا گیس پریشر نہ ہونے کا نوٹس لیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی فوری طور پر کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں گیس پریشر بڑھانے کیلئے اقدامات اٹھائے، بصورت دیگر بلوچستان عوامی پارٹی سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفتر کے گھیراؤ سمیت سخت احتجاج پر مجبور ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میں گیس پریشر نہ ہونے کے بلوچستان عوامی پارٹی سوئی سدرن گیس کمپنی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار