گیس پریشر بحال نہ ہوا تو سوئی گیس دفتر کا گھیراؤ کرینگے، بی اے پی کوئٹہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بی اے پی کے ضلعی صدر نے کہا کہ شہر میں گیس پریشر نہ ہونے کے برابر ہے اور گیس پائپ سے ہوا آتی ہے۔ جس پر سوئی سدرن گیس کمپنی صارفین کو دو سے تین گناہ زیادہ بل بھیج رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان عوامی پارٹی کوئٹہ سٹی کے صدر احسان اللہ خاکسار نے کہا ہے کہ سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی کوئٹہ شہر میں گیس پریشر نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس سے بوڑھے، بچے بیمار ہو رہے ہیں۔ سوئی سدرن گیس کمپنی نے 10 روز کے اندر گیس پریشر بحال نہ کیا تو گیس دفتر کا گھیراؤ کریں گے۔ یہ بات انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کے آرگنائزر سیکرٹری ملک خدابخش لانگو، اقلیتی ونگ کے صوبائی صدر روز جان و دیگر کے ہمراہ بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ احسان اللہ خاکسار نے کہا کہ گیس بلوچستان سے نکلتی ہے، جو ملک کے دوسرے صوبوں کو فراہم کی جا رہی ہے۔ جبکہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے عوام اس قدرتی نعمت سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو تین ماہ سے کوئٹہ شہر اور سرد علاقوں میں گیس پریشر نہ ہونے کے برابر ہے اور گیس پائپ سے ہوا آتی ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی صارفین کو دو سے تین گناہ زیادہ بل بھیج رہی ہے، جسے بلوچستان کے عوام جمع کرانے کی استعداد نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود سوئی سدرن گیس کمپنی نے کوئٹہ شہر میں گیس پریشر ابھی تک نہیں بڑھایا ہے۔ سردی کی وجہ سے بچے، بوڑھے بیمار ہو رہے ہیں، جبکہ خواتین کو کھانا پکانے میں سخت مشکلات درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی عوام کی جماعت ہے، جو عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر سرد علاقوں میں گیس پریشر نہ ہونے کے خلاف ایوانوں میں بھی آواز بلند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر بلوچستان، وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر حکام بالا گیس پریشر نہ ہونے کا نوٹس لیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی فوری طور پر کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں گیس پریشر بڑھانے کیلئے اقدامات اٹھائے، بصورت دیگر بلوچستان عوامی پارٹی سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفتر کے گھیراؤ سمیت سخت احتجاج پر مجبور ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں گیس پریشر نہ ہونے کے بلوچستان عوامی پارٹی سوئی سدرن گیس کمپنی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔