ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی جانب سے سوئی ہیڈکوارٹر میں کھلی کچہری کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے ایف سی ہیڈکوارٹر سوئی میں ایک کھلی کچہری کا اہتمام کیا، جس میں آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی، مقامی انتظامیہ اور علاقے کے قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔
کچہری میں عوامی مسائل کے حل، علاقے میں امن برقرار رکھنے، ترقیاتی عمل میں تیزی لانے اور فلاح و بہبود کے اقدامات کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اس موقع پر آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کا راستہ امن، یکجہتی اور عوامی تعاون سے ہو کر گزرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال عزم کا مظاہرہ کیا ہے اور اب وقت ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر دشمن قوتوں کی سازشوں کو مکمل طور پر ناکام بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے قبائلی عمائدین کا کردار انتہائی اہم ہے۔
کچہری میں شریک قبائلی عمائدین نے کھلی کچہری کے انعقاد کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں اپنے مسائل براہِ راست متعلقہ حکام کے سامنے رکھنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی جی ایف سی نے زیادہ تر مسائل کے حل کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ عمائدین نے کہا کہ ایف سی نے علاقے میں امن و امان کی بحالی اور اسے برقرار رکھنے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، جسے وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
اس دوران تعلیم، صحت، ڈیرہ بگٹی کشمور روڈ کی حالتِ زار، اور دیگر سیکیورٹی معاملات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے حکومت، سیکیورٹی اداروں، انتظامیہ اور قبائلی عمائدین کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایف سی بلوچستان قبائلی عمائدین کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز