سندھ کے سینئر وزیر  شرجیل انعام میمن نے محکمہ اطلاعات کو تمام فلمی اور میڈیا پروجیکٹس جلد مکمل کرنے اور حکام کو صوبے کے جاری میگا پروجیکٹس اور ترقیاتی کاموں کی بروقت اور مؤثر تشہیر کی ہدایات کردی۔

سندھ کے سینئر وزیر  شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت کراچی میں محکمہ اطلاعات کا ایک اہم اجلاس ہوا جس میں انہوں نے محکمہ اطلاعات کی پروڈکشن کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ  کرنے اور تکنیکی معیار بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات  کی بھی ہدایات کی۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے جاری منصوبوں پر بریفنگ لی ، متعلقہ حکام کو ہدف کے مطابق کام تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔ 

فلمی منصوبوں کی پیش رفت، ادارے کی مجموعی حکمت عملی اور قومی بیانیہ اجاگر کرنے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال  کیا گیا۔

شرجیل انعام میمن  نے کہا کہ صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ فلم، ڈاکیومنٹری اور دیگر تخلیقی مواد کے ذریعے قومی بیانیے، قومی یکجہتی، امن، رواداری اور ترقیاتی اقدامات کو مؤثر انداز میں پیش کیا جائے، میڈیا کے ذریعے معاشرے میں مثبت پیغام پھیلانا وقت کی ضرورت ہے۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ اطلاعات کو فلم اور میڈیا کے ہر شعبے میں وہ مواد تیار کرنا چاہیے جو صوبے کی ثقافت، عوامی مفاد، حکومتی کارکردگی اور قومی بیانیے کو سادہ اور مؤثر انداز میں سامنے لائے، فلم اور میڈیا کے ذریعے صوبے کی ثقافت، تاریخ، سماجی مسائل اور عوامی خدمات کے شعبوں کو نمایاں طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نوجوان فلم سازوں اور میڈیا پروفیشنلز کو مواقع دینے کے لیے بھی مختلف اقدامات کر رہی ہے تاکہ نئی تخلیقی صلاحیتیں سامنے آئیں اور مثبت بیانیہ مضبوط ہو،  ایسے جامع منصوبے تیار کئے جائیں جو بڑے ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم اور توانائی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کو موثر انداز میں عوام تک پہنچائیں۔ 

اجلاس میں ڈی جی اطلاعات معز پیرزادہ، ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ یوسف کابورو، ڈائریکٹر ایڈمن منصور راجپوت، ڈائریکٹر فلمز حزب اللہ میمن اور ڈپٹی ڈائریکٹر سارنگ لطیف چانڈیو شریک تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن محکمہ اطلاعات اور میڈیا

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن