امریکہ نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
امریکا نے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ فوری طور پر معطل کردی ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایک افغان پناہ گزین کو واشنگٹن ڈی سی میں 2 نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کا مشتبہ قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:
وزیرِ ہوم لینڈ سیکیورٹی کرسٹی نوم کے مطابق مشتبہ شخص ایک افغان شہری ہے جو 8 ستمبر 2021 کو بائیڈن انتظامیہ کے تحت آپریشن الائیز ویلکم کے ذریعے بغیر مکمل جانچ پڑتال کے امریکا لایا گیا تھا۔
Effective immediately, processing of all immigration requests relating to Afghan nationals is stopped indefinitely pending further review of security and vetting protocols.
The protection and safety of our homeland and of the American people remains our singular focus and…
— USCIS (@USCIS) November 27, 2025
میڈیا رپورٹس کے مطابق مشتبہ شخص، رحمٰن اللہ لکانوال، نے مبینہ طور پر بدھ کے روز گھات لگا کر کیے گئے حملے میں 2 نیشنل گارڈز کو شدید زخمی کیا۔
رپورٹس کے مطابق وہ 2021 میں امریکا داخل ہوا تھا اور رواں برس اسے پناہ فراہم کی گئی تھی۔
امریکی شہریت و امیگریشن سروس نے بدھ کی شام اعلان کیا کہ افغان شہریوں سے متعلق تمام امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ فی الحال غیر معینہ مدت کے لیے روک دی گئی ہے، جب تک سیکیورٹی اور جانچ پڑتال کے طریقۂ کار کا مزید جائزہ نہیں لے لیا جاتا۔
مزید پڑھیں:امریکا افغانستان سے اپنا جنگی سامان کیوں واپس لینا چاہتا ہے؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مشتبہ شخص ’بائیڈن کے دور میں امریکا لایا گیا تھا۔‘
ان کے مطابق آپریشن الائیز ویلکم کے تحت اگست 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد ہزاروں افغان شہریوں کو ہنگامی طور پر امریکا منتقل کیا گیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اب ہمیں لازمی طور پر ان تمام افراد کا دوبارہ جائزہ لینا ہوگا جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں افغانستان سے امریکا آئے۔
مزید پڑھیں: امریکا نے میانمار کے شہریوں کے لیے عارضی قانونی اسٹیٹس ختم کر دیا
’اور ایسے ہر شخص کی ملک بدری کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے جو یہاں رہنے کے قابل نہیں یا امریکی مفاد میں کوئی فائدہ نہیں رکھتا۔‘
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق آپریشن الائیز ویلکم کے تحت تقریباً 90 ہزار افغان شہری امریکا داخل ہوئے، جنہیں ملک میں رہنے کی اجازت دی گئی۔
جون 2025 کی ایک حکومتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان میں سے 55 افراد یا تو امریکا پہنچنے کے وقت ہی دہشت گردوں کی واچ لسٹ پر موجود تھے یا بعد میں اس فہرست میں شامل کیے گئے۔
مزید پڑھیں:
طالبان نے اگست 2021 میں کابل پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا، جس کے ساتھ ہی افغانستان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کا 20 سالہ فوجی وجود ختم ہوگیا۔
صدر ٹرمپ نے اس انخلا کو ’ذلت آمیز‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکا کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان شہریوں کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔