امریکا کا القاعدہ کے 2 سینئر رہنماؤں اسامہ محمود اور عاطف یحییٰ غوری کی معلومات دینے پر بھاری انعام کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251127-01-14
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے القاعدہ برصغیر پاک و ہند کے 2سینئر رہنماؤں اسامہ محمود اور عاطف یحییٰ غوری کی معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر تک انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔اسامہ محمود پر ایک کروڑ ڈالر جب کہ عاطف یحییٰ غوری پر 50 لاکھ ڈالر تک انعام رکھا گیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق دونوں 2015ء کے میشیٹی حملے اور2016ء میں ڈھاکا میں امریکی سفارت خانے کے ملازم کے قتل میں ملوث ہیں، ان کے متعلق اطلاع سگنل، ٹیلی گرام، واٹس ایپ یا ٹور لنک کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔ریوارڈز فار جسٹس (آر ایف جے) کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا گیا ہے کہ ستمبر 2014 ء میں اس وقت کے القاعدہ کے امیر ایمن الظواہری نے القاعدہ برصغیر پاک و ہند (اے کیو آئی ایس) کے قیام کا اعلان کیا تھا اور عاصم عمر کو امیر اور اسامہ محمود کو ترجمان مقرر کیا تھا، اسامہ محمود نے پہلے القاعدہ کے سرکاری پروپیگنڈے کے ادارے ’اصحاب‘ کے ذریعے جاری کئی پیغامات میں بھی حصہ لیا تھا۔بیان کے مطابق بعد ازاں عاصم عمر کو القاعدہ کے مرکزی دہشت گرد گروپ میں سینئر قیادت کی حیثیت دی گئی، اور محمود اے کیو آئی ایس کے رہنما بن گئے، اسامہ محمود عرف عطا اللہ، زر ولی اور ابو زر 2 ستمبر 1980 ء کو پیدا ہوئے اور پاکستانی شہری ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں مقیم ہیں۔القاعدہ نیٹ ورک کے حصے کے طور پر اے کیو آئی ایس افغانستان، بنگلا دیش، برما، بھارت اور پاکستان میں جہادی گروپوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتا ہے۔اس گروپ نے 26 فروری 2015ء کو بنگلا دیش میں پیدا ہونے والے امریکی شہری اور شادی شدہ جوڑے روی اور احمد پر کیے گئے چھری کے حملے کی ذمے داری قبول کی تھی، یہ جوڑا ڈھاکا کے کتاب میلے میں شرکت کے لیے آیا تھا، اس حملے میں روی قتل ہوگئے تھے جب کہ ان کی بیوی شدید زخمی ہوئی تھی، جن کے انگوٹھے کاٹ دیے گئے اور سر میں کئی زخم آئے تھے۔اے کیو آئی ایس کی بنگلا دیش شاخ نے 26 اپریل 2016ء کو بنگلا دیش میں امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے ملازم خولہاز منان اور ان کے ایک دوست کے قتل کی بھی ذمے داری قبول کی تھی۔30 جون 2016ء کو امریکی محکمہ خارجہ نے اے کیو آئی ایس کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (ایف ٹی او) کے طور پر ایگزیکٹو آرڈر کے طور پر اسپیشلی ڈائیگوسٹڈ ٹیررسٹ (ایس ڈی جی ٹی) قرار دیا تھا، اس سے قبل مرکزی القاعدہ کو ایف ٹی او قرار دیا گیا تھا۔30 نومبر 2022 کو امریکا نے اسامہ محمود کو ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے تحت ایس ڈی جی ٹی قرار دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اے کیو ا ئی ایس القاعدہ کے بنگلا دیش
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔