ابوظہبی میں امریکا اور روس کے درمیان امن مذاکرات، یوکرینی صدر بھی رضامند
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
صدر زیلنسکی نے یہ مطالبہ بھی کیا روس یوکرین امن مذاکرات ہمارے یورپی اتحادیوں کی شمولیت کے ساتھ ہونے چاہئیں، تاکہ کوئی فیصلہ یوکرین یا یورپ کے مفاد کے خلاف نہ ہو۔ ان خیالات کا اظہار یوکرینی صدر زیلنسکی نے اتحادی ممالک کے اجلاس سے خطاب میں کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کر دیں، جس کے تحت ابو ظہبی میں روسی حکام کے ساتھ مذاکرات کا ایک دور بھی ہوا۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک بڑی پیشرفت میں امریکی صدر کے امن منصوبے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے جنگ بندی فریم ورک کو آگے بڑھانے کیلئے تیار ہیں اور وہ اس منصوبے کے متنازع نکات کو صدر ٹرمپ کے ساتھ براہِ راست بات چیت میں طے کریں گے۔ صدر زیلنسکی نے یہ مطالبہ بھی کیا روس یوکرین امن مذاکرات ہمارے یورپی اتحادیوں کی شمولیت کے ساتھ ہونے چاہئیں، تاکہ کوئی فیصلہ یوکرین یا یورپ کے مفاد کے خلاف نہ ہو۔ ان خیالات کا اظہار یوکرینی صدر زیلنسکی نے اتحادی ممالک کے اجلاس سے خطاب میں کیا تھا۔
انھوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ امن مذاکرات کے لیے فریم ورک موجود ہے اور یوکرین اسے آگے بڑھانے کیلئے بھی تیار ہے، تاہم اس میں امریکی صدر کی ذاتی شمولیت ضروری ہے۔ امریکی اور یوکرینی مذاکرات کار آئندہ امن منصوبے پر اختلافات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم یوکرین کو خدشہ ہے کہ کہیں اسے ایسے معاہدے کیلئے مجبور نہ کیا جائے، جو زیادہ تر روسی شرائط کے مطابق ہوں۔ ادھر وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران صدر ٹرمپ نے روس یوکرین جنگ کے خاتمے پر کہا کہ ہم بہت قریب آگئے ہیں اور ہم اس عمل کو جلد مکمل کر لیں گے۔
یاد رہے کہ یوکرین کے قومی سلامتی مشیر رسٹم عمرُوف کے مطابق صدر زیلنسکی آئندہ چند روز میں امریکا کا دورہ کرکے حتمی معاہدے پر بات چیت کرسکتے ہیں، تاہم امریکا نے اس دورے کی تصدیق نہیں کی۔ البتہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ گذشتہ ہفتے کے دوران امریکا نے روس اور یوکرین کو ایک میز پر لاکر غیر معمولی پیش رفت حاصل کی ہے، تاہم چند نہایت نازک مگر قابلِ حل نکات باقی ہیں۔ ان مذاکرات کے سلسلے میں اتوار کو جنیوا میں امریکی اور یوکرینی مذاکرات کاروں کی اہم ملاقات ہوئی تھی اور اس کے بعد امریکی آرمی سیکرٹری ڈین ڈرسکول نے پیر اور منگل کو ابوظہبی میں روسی حکام سے مذاکرات کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صدر زیلنسکی امن مذاکرات یوکرینی صدر زیلنسکی نے اور یوکرین کے ساتھ
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم