انڈیا: ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے مسلمان ’اخلاق‘ کے تمام ملزمان کو رہا کرانے کی کوششیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
بھارت کی ریاست اترپردیش میں، انتہاپسند ہندو ہجوم کے ہاتھوں قتل کیے جانے والےمسلمان محمد اخلاق کے تمام ملزمان کو رہا کرانے کی ریاستی حکومت کی درخواست پر فیصلہ 12 دسمبر کو سنایا جائے گا۔
بھارت کی ریاست اترپردیش میں 2015 میں مویشیوں کے گوشت سے متعلق افواہ پر ہندو انتہاپسند ہجوم کے ہاتھوں قتل کیے گئے مسلمان شہری محمد اخلاق کے اہلِ خانہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ انصاف کے حصول کی جدوجہد ترک نہیں کریں گے، چاہے حکومت ملزمان کے خلاف مقدمہ ختم کرانے کی کوشش ہی کیوں نہ کرے۔
’گوشت‘ کی افواہ اور جان لیوا حملہبی بی سی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا کہ محمد اخلاق، جن کی عمر اُس وقت 50 برس تھی، کو اُس وقت تشدد کا نشانہ بناکر ہلاک کر دیا گیا تھا جب دیہات میں یہ افواہ پھیل گئی کہ انہوں نے گھر میں ’گائے کا گوشت‘ رکھا ہے اور اسے کھایا ہے۔
اہلِ خانہ نے یہ الزام ہمیشہ مسترد کیا ہے۔
دادری کے علاقے میں پیش آنے والا یہ واقعہ دارالحکومت دہلی سے صرف 49 کلومیٹر دور پیش آیا۔ یہ بھارت میں ’گائے کے نام پر تشدد‘ کا پہلا بڑا اور ملک گیر سطح پر رپورٹ ہونے والا مقدمہ بنا، اس کے بعد ملک بھر میں احتجاج بھی ہوئے۔
18 ملزمان پر مقدمات، سب ضمانت پر رہا، اب مقدمہ ختم کرنے کی درخواستاخلاق کے اہلِ خانہ کے وکیل کے مطابق اس کیس میں 18 افراد پر قتل، فساد اور دیگر سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اب اترپردیش کی بی جے پی حکومت نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ تمام ملزمان کے خلاف مقدمہ واپس لیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے گائے پر کیوں بھونکا، بھارتی شہری نے کتے کو ڈنڈے مار کر ہلاک کردیا
استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گواہوں کے بیانات میں ’تضادات‘ موجود ہیں، اس لیے کیس آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔
عدالت 12 دسمبر کو اس درخواست پر فیصلہ سنائے گی۔
اس پیش رفت نے اخلاق کے اہلِ خانہ کو سخت حیران کر دیا ہے۔ اخلاق کے بھائی جان محمد نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا ’ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہماری 10سال کی جدوجہد کو یوں دفن کرنے کی کوشش کی جائے گی۔‘
خاندان واقعے کے فوراً بعد اپنا آبائی گاؤں چھوڑ کر منتقل ہو گیا تھا اور اب بھی واپس جانے سے خوفزدہ ہے۔
واقعے کی رات: گاؤں کے مندر سے اعلان اور پھر حملہگھر والوں کے مطابق 28 ستمبر 2015 کو اخلاق اپنے بیٹے دانش کے ساتھ سو رہے تھے کہ ڈنڈوں، تلواروں اور سستے پستولوں سے لیس ہجوم نے گھر پر دھاوا بول دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ اعلان گاؤں کے ایک مندر سے کیا گیا تھا کہ کسی نے گائے کو ذبح کیا ہے۔
ہجوم نے فریج سے کچھ گوشت نکالا اور اسے’ثبوت‘ قرار دیا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ یہ بکرا کا گوشت تھا، جس کی تصدیق ایک مقامی ویٹرنری رپورٹ نے بھی کی تھی۔
تحقیقات، تنازعات اور سیاستواقعے کے بعد چند ہی دنوں میں گرفتاریاں ہوئیں، مگر چارج شیٹ جمع کرانے میں تقریباً 3 ماہ لگے۔
پہلی چارج شیٹ میں 15 ملزمان، جن میں ایک نابالغ اور مقامی بی جے پی رہنما کا بیٹا بھی شامل تھا، کے نام شامل تھے۔ بعد میں مزید 4 نام شامل کیے گئے، جن میں سے ایک ملزم 2016 میں فوت ہوگیا۔
اس دوران بعض حکومتی رہنماؤں کے بیانات پر بھی شدید تنقید ہوئی۔بعض نے واقعے کو ’حادثہ‘ کہا، تو کچھ نے گائے کا گوشت کھانے کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا۔
حکومت کا مؤقف: گواہوں کے بیانات میں فرقحکومت کی حالیہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اخلاق کی بیوہ نے اپنے بیان میں 10 ملزمان کے نام لیے، بیٹی نے 16 نام بتائے، جبکہ بیٹے دانش نے 19 افراد کی نشاندہی کی۔ استغاثہ نے اسے ’تضاد‘ قرار دیا ہے۔
مزید کہا گیا کہ پولیس نے جائے وقوعہ سے ڈنڈے، سریے اور اینٹیں تو برآمد کیں، لیکن وہ تلواریں یا پستول نہیں ملے جن کا ذکر گھر والوں نے کیا تھا۔
الزامی جوابی مقدمہ بھی اب تک زیرِ سماعت2016 میں اخلاق کے اہلِ خانہ پر ’گائے ذبح کرنے‘ کا الزام لگا کر ایک الگ مقدمہ بھی قائم کیا گیا تھا، جو اب تک عدالت میں زیر التوا ہے۔
خاندان نے اس الزام کو ہمیشہ سیاسی دباؤ قرار دیا ہے۔
اگرچہ خاندان اس پیش رفت سے پریشان ہے، تاہم پھر بھی انصاف کی امید برقرار ہے۔ اخلاق کے بھائی نے کہا
’میں اب بھی عدالت پر اعتماد رکھتا ہوں۔ یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن انصاف ضرور ملے گا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت گائے گوشت ہجوم کے ہاتھوں مسلمان کا قتل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت گائے گوشت ہجوم کے ہاتھوں مسلمان کا قتل ہجوم کے ہاتھوں اخلاق کے اہل قرار دیا گیا تھا کیا ہے
پڑھیں:
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
مزید :