امریکا نے القاعدہ کے دو سینئر رہنماؤں اسامہ محمود اور عاطف یحییٰ غوری کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ اسامہ محمود پر ایک کروڑ ڈالر جبکہ عاطف یحییٰ غوری پر 50 لاکھ ڈالر تک انعام رکھا گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ دونوں افراد 2015 میں میشیٹی حملے اور 2016 میں ڈھاکا میں امریکی سفارت خانے کے ملازم کے قتل میں ملوث ہیں۔

ریوارڈز فار جسٹس (RFJ) کے مطابق ستمبر 2014 میں القاعدہ کے سابق امیر ایمن الظواہری نے القاعدہ برصغیر پاک و ہند (AQIS) کے قیام کا اعلان کیا، جس میں عاصم عمر کو امیر اور اسامہ محمود کو ترجمان مقرر کیا گیا۔ اسامہ محمود نے بعد میں AQIS کی قیادت سنبھالی اور افغانستان میں مقیم رہنے کا امکان ہے۔

AQIS نے افغانستان، بنگلہ دیش، برما اور بھارت میں دہشت گرد گروپوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کیا۔ اس گروپ نے 2015 میں ڈھاکا میں امریکی شہریوں پر حملے اور 2016 میں یو ایس ایڈ کے ملازم کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے 2016 میں AQIS کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور 2022 میں اسامہ محمود کو بھی اسپیشلی ڈائیگوسٹڈ ٹیررسٹ قرار دے کر ان کی تمام امریکی جائیدادیں بلاک کر دی ہیں۔ امریکی شہریوں کے لیے محمود یا AQIS کے ساتھ کسی بھی قسم کے لین دین میں شامل ہونا جرم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی

---فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔ 

کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔

سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔

سارا انعام قتل کیس: سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی والدہ کی بریت کیخلاف اپیل میں نوٹس جاری

جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔ 

انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔

عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔ 

سارہ انعام قتل کیس، مرکزی ملزم شاہنواز امیر اور والدہ پر فرد جرم عائد

اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان