امریکا نے القاعدہ کے دو رہنماؤں کی معلومات دینے پر بھاری انعام کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
امریکا نے القاعدہ کے دو سینئر رہنماؤں اسامہ محمود اور عاطف یحییٰ غوری کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ اسامہ محمود پر ایک کروڑ ڈالر جبکہ عاطف یحییٰ غوری پر 50 لاکھ ڈالر تک انعام رکھا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ دونوں افراد 2015 میں میشیٹی حملے اور 2016 میں ڈھاکا میں امریکی سفارت خانے کے ملازم کے قتل میں ملوث ہیں۔
ریوارڈز فار جسٹس (RFJ) کے مطابق ستمبر 2014 میں القاعدہ کے سابق امیر ایمن الظواہری نے القاعدہ برصغیر پاک و ہند (AQIS) کے قیام کا اعلان کیا، جس میں عاصم عمر کو امیر اور اسامہ محمود کو ترجمان مقرر کیا گیا۔ اسامہ محمود نے بعد میں AQIS کی قیادت سنبھالی اور افغانستان میں مقیم رہنے کا امکان ہے۔
AQIS نے افغانستان، بنگلہ دیش، برما اور بھارت میں دہشت گرد گروپوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کیا۔ اس گروپ نے 2015 میں ڈھاکا میں امریکی شہریوں پر حملے اور 2016 میں یو ایس ایڈ کے ملازم کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے 2016 میں AQIS کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور 2022 میں اسامہ محمود کو بھی اسپیشلی ڈائیگوسٹڈ ٹیررسٹ قرار دے کر ان کی تمام امریکی جائیدادیں بلاک کر دی ہیں۔ امریکی شہریوں کے لیے محمود یا AQIS کے ساتھ کسی بھی قسم کے لین دین میں شامل ہونا جرم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔