data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

روس اور یوکرین کے درمیان برسوں سے جاری جنگ کے پس منظر میں پہلی بار ایسی پیش رفت سامنے آئی ہے جسے مستقبل کی امن کوششوں کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

یوکرینی کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے واضح طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے پر بات چیت آگے بڑھانے پر رضامندی ظاہر کر کے اس تنازعے کو سفارتی راستے سے حل کرنے کی نئی امیدیں پیدا کر دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس فریم ورک کے تمام متنازع نکات پر ٹرمپ سمیت یورپی اتحادیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے کو تیار ہیں، تاکہ کوئی ایسا فارمولا طے کیا جا سکے جو یوکرین کی خودمختاری اور قومی سلامتی کو مکمل تحفظ دے سکے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب روس نے امریکی امن منصوبے کو اپنی سفارتی حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے یوکرین کو خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ ناکام ہوتا ہے تو ماسکو اپنی فوجی پیش قدمی جاری رکھنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی تجویز حتمی امن معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہے، تاہم ان کے مطابق اس میں کچھ ترامیم ناگزیر ہیں،  جنہیں یوکرین روسی اثر و رسوخ میں اضافے کے مترادف قرار دیتا ہے۔

واضح رہے کہ  زیلنسکی نے یورپی یونین کے حالیہ اجلاس میں یورپی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی کے بعد یوکرین میں امن فورسز کی ممکنہ تعیناتی کا واضح اور قابلِ عمل منصوبہ سامنے لائیں۔ انہوں نے کہا کہ  روس کی جانب سے دوبارہ جارحیت کے خدشے کو روکنے کے لیے یورپی ممالک کا عملی کردار ناگزیر بنتا جا رہا ہے۔

علاوہ ازیں اسی اجلاس میں برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے بھی اس بات کی حمایت کی کہ یورپی افواج کو مستقبل میں یوکرین میں تعینات کرنے کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔

یوکرینی حکام کے مطابق امریکی امن فریم ورک کی پہلی شکل 28 نکات پر مشتمل تھی، تاہم جنیوا اور ابوظبی میں ہونے والی خفیہ سفارتی بات چیت کے بعد یہ دستاویز 19 نکات تک محدود ہو گئی ہے۔ باجوہ، علاقائی حدود، فوجی لائنز، اور نیٹو سے متعلق حساس نکات اب بھی مذاکرات میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور انہی پر سب سے مشکل بحث متوقع ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر کہا ہے کہ یوکرین تنازع کے حوالے سے ’’بڑی پیش رفت‘‘ ہو چکی ہے اور صرف چند اختلافات باقی رہ گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ زیلنسکی اور پوتن سے اس وقت ملاقات کریں گے جب معاہدہ اپنے آخری مرحلے میں پہنچ جائے گا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے موجودہ دور میں 9 ماہ کے اندر 8 جنگیں رکوا دیں اور ’’ایک اور جنگ ختم ہونے کے قریب ہے‘‘۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل