وہ قصبہ جہاں آئندہ 66 روز تک سورج کی روشنی نہیں پہنچے گی
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا کی ریاست الاسکا کے انتہائی شمالی کنارے پر واقع قصبہ اُٹکی آگ وِک (Utqiagvik) ایک بار پھر طویل قطبی رات کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں اگلے 66 دن تک سورج طلوع نہیں ہوگا۔
مقامی وقت کے مطابق 18 نومبر دوپہر 1 بج کر 36 منٹ پر سورج غروب ہوا، جو اب 23 جنوری کی دوپہر تک واپس نظر نہیں آئے گا۔ پاکستان کے وقت کے مطابق یہ غروبِ آفتاب 19 نومبر کی شب 3:35 پر ریکارڈ کیا گیا۔ اس طرح قصبے کے رہائشی دو ماہ سے زائد عرصہ تاریکی میں گزاریں گے، اگرچہ دن کے اوقات میں افق کے قریب ہلکی روشنی ضرور محسوس ہوگی، مگر وہ طلوعِ آفتاب جیسا منظر نہیں ہوگی۔
آرکٹک سرکل میں واقع یہ قصبہ ہر سال قطبی رات (Polar Night) کا سامنا کرتا ہے۔ زمین کے محور میں جھکاؤ کی وجہ سے موسمِ سرما کے دوران سورج کئی ہفتوں تک آسمان کے افق سے اوپر نہیں آتا، جبکہ گرمیوں میں یہی علاقہ مڈنائٹ سن کے تجربے سے گزرتا ہے جہاں سورج 24 گھنٹے آسمان پر موجود رہتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ستمبر ہی سے یہاں دن کا دورانیہ تیزی سے کم ہونے لگتا ہے، مگر نومبر سے جنوری تک علاقہ مکمل طور پر طویل رات کی گرفت میں چلا جاتا ہے۔
اُٹکی آگ وِک الاسکا کا واحد قصبہ نہیں جہاں قطبی رات آتی ہے، لكنها سب سے زیادہ شمال میں واقع ہونے کے باعث ہر سال یہ تاریکی سب سے پہلے اسی بستی میں اترتی ہے۔ لگ بھگ 4,300 افراد پر مشتمل یہ کمیونٹی شدید سردی، محدود سورج روشنی اور طویل اندھیروں کے ساتھ زندگی گزارنے کی عادی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ہفتوں تک سورج نہ دیکھنے سے انسانی قدرتی جسمانی گھڑی (biological clock) پر نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
الاسکا کی یہ بستی ایک بار پھر دنیا بھر کی توجہ کا مرکز ہے، جہاں لوگ اگلے 66 دن تک سورج کی واپسی کا انتظار کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تک سورج
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔