اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستانی ماہرین کا بڑا کارنامہ،میڈ اِن پاکستان سیکیور موبائل فون تیار کرلیاگیا،محفوظ موبائل فون سیٹ حکومتی شخصیات اور سرکاری افسران کیلئےتیارکیاگیا۔

موبائل فون کا سافٹ ویئر اورہارڈ ویئر دونوں پاکستان میں تیارکئےگئے ہیں،نئے آپریٹنگ سسٹم کے تحت تیار یہ موبائل فون انٹرنیٹ سے کنیکٹ نہیں ہوگا،سیکیورموبائل فون میں کسی بھی پاکستانی ٹیلی کام آپریٹر کی سم استعمال ہوسکےگی،این ٹی سی کے پائیلٹ پروجیکٹ کے تحت تیار موبائل فون میں کوئی بیک اپ نہیں ہوگا۔

سیکیور موبائل فون میں موجود تمام ایپلی کیشنز بھی خصوصی طورپربنائی گئی ہیں،اس موبائل فون سےہونےوالی گفتگو کی مانیٹرنگ یا انٹرسیپٹنگ ممکن نہیں ہوگی،سیکیورموبائل فون سے کال صرف کسی دوسرےسیکیور موبائل فون پر ہی ہوگی۔

ایم ڈی این ٹی سی علی فرحان نےسیکیور فون پر رپورٹ اعلیٰ حکام کوپیش کردی،علی فرحان نےکہاپائیلٹ پراجیکٹ کے تحت ابتدائی طورپر10 سیکیور موبائل فون تیار کئے،مزید سیکیور موبائل فونز بنانےکیلئےفنڈنگ درکار ہوگی،واٹس ایپ کمیونیکیشن محفوظ نہیں

واٹس ایپ فراہم کرنے والےاسے سن سکتے ہیں،چاہتےحکومتی شخصیات اورآفیشلز کی باہمی کمیونیکیشن کہیں مانیٹرنہ کی جاسکے،حالیہ پاک بھارت جنگ کےدوران واٹس ایپ کمیونیکیشن غیرمحفوظ ثابت ہوئی
واٹس ایپ پر ہونے والی گفتگو دوسروں تک پہنچ رہی تھی ،اس سے سبق سیکھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سیکیور موبائل فون واٹس ایپ

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم