بنگلہ دیش نے پاکستانی ڈرامے ’کبھی میں کبھی تم‘ کی نقل تیار کرلی، مداحوں کا موازنہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
مشہور پاکستانی ڈرامہ سیریل ’کبھی میں کبھی تم‘ کو بنگلہ دیش میں’ایٹا امادری گولپو‘ کے عنوان سے ری میک کیا گیا ہے۔
یہ ڈرامہ پاکستان میں بے حد مقبول ہوا، جہاں پہلے قسط کو تقریباً 82 ملین اور آخری قسط کو 57 ملین بار دیکھا گیا۔ اس کی مقبولیت بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، مشرق وسطیٰ، ترکی اور انڈونیشیا تک پھیلی ہوئی ہے۔
View this post on Instagram
A post shared by Pakistan Republic (@pakistanrepublicc)
پاکستانی ڈرامے کے بنگلہ دیشی ری میک ’ایٹا امادری گولپو‘ کی اب تک 4 اقساط نشر ہو چکی ہیں اور ہر قسط کو تقریباً 2 ملین بار دیکھا گیا۔
سوشل میڈیا پر پاکستانی اور بنگلہ دیشی صارفین اصل ڈرامے کے مناظر کا موازنہ کرتے ہوئے ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔ ری میک پر تنقید اور تعریف دونوں سامنے آئی ہیں۔ ایک پاکستانی مداح نے کہا، ’بطور پاکستانی، مجھے فخر ہے کہ ہمارے ڈرامے بین الاقوامی سطح پر ری میک ہو رہے ہیں‘۔ تاہم، بعض بنگلہ دیشی صارفین نے کہا کہ ری میک کی بجائے ڈبنگ کرنا زیادہ مناسب ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ انصاری کو ڈرامہ کبھی میں کبھی تم میں اپنا کردار کیوں پسند نہیں تھا؟
واضح رہے’کبھی میں کبھی تم‘ ڈرامے کو کہانی اور کرداروں کی وجہ سے کافی سراہا گیا تھا، اس کی مقبولیت نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک میں بھی دیکھی گئی۔
ڈرامے میں فہد مصطفیٰ کے ساتھ ساتھ ہانیہ عامر، جاوید شیخ، بشریٰ انصاری، نعیمہ بٹ، اریج چوہدری اور عماد عرفانی سمیت دیگر اداکاروں نے کام کیا۔ ڈرامے میں فہد مصطفیٰ اور ہانیہ عامر نے میاں اور بیوی کا کردار ادا کیا جبکہ عماد عرفانی نے فہد مصطفیٰ کے لالچی بھائی کا روپ دھارا جو دولت کی خاطر ہانیہ عامر سے شادی کرنے سے انکار کردیتے ہیں، جس کے بعد فہد مصطفیٰ ان سے شادی کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش پاکستانی ڈرامے کبھی میں کبھی تم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش پاکستانی ڈرامے کبھی میں کبھی تم کبھی میں کبھی تم بنگلہ دیش فہد مصطفی ری میک
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک