بھارت سے آئی خاتون کا واپسی سے انکار، اسلام قبول کرکے پاکستانی شخص سے شادی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
— فائل فوٹو
مذہبی تہوار کے سلسلے میں بھارت سے آئی سکھ خاتون نے بھارت واپس جانے سے انکار کردیا۔ اسلام قبول کرکے پاکستانی شہری سے شادی کرلی۔
پاکستان میں بابا گرو نانک کے جنم دن کی یاترا کے لیے بھارت سے آنے والے جتھے میں شامل سکھ خاتون سربجیت کور نے اسلام قبول کر کے ایک پاکستانی شہری سے شادی کرلی۔
خاتون کا اسلامی نام نور رکھا گیا ہے، نکاح نامے کے مطابق 48 سالہ سربجیت کور نے 5 نومبر کو ضلع شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد کے رہائشی پاکستانی شہری ناصر حسین سے نکاح کیا۔
نکاح نامے میں 10 ہزار روپے حق مہر درج ہے جو ادا کیا جا چکا ہے۔ سربجیت کور 4 نومبر کو بھارتی یاتریوں کے ساتھ پاکستان آئی تھیں لیکن 13 نومبر کو بھارت واپس جانے والے یاتریوں میں شامل نہیں تھیں جبکہ اسی روز ان کا ویزہ بھی ختم ہوگیا تھا۔
اسی بنا پر انہیں لاپتہ قرار دے کر تلاش شروع کی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ خاتون نے اسلام قبول کر کے پاکستانی شہری سے شادی کر لی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاکستانی شہری اسلام قبول کر
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔