گلگت بلتستان کے نگران وزیر اعلیٰ کا معاملہ وزیر اعظم تک پہنچنے کا امکان بڑھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
اب تک کئی نام زیر گردش ہیں تاہم ہر جماعت اپنی پسند کا وزیر اعلیٰ دیکھنا چاہتی ہے جس کی وجہ سے ڈیڈلاک برقرار ہے۔ اسلام آباد میں حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات کے کئی راؤنڈ ہوئے ہیں لیکن ابھی تک کسی نام پر اتفاق نہ ہو سکا۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان کے نگران وزیر اعلیٰ کی تقرری کا معاملہ پیچیدہ ہو گیا، حکومت اور اپوزیشن میں ابھی تک کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا جس کے بعد یہ معاملہ وزیر اعظم تک پہنچنے کا امکان ہے۔ گورننس آرڈر 2018ء کے مطابق حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق نہ ہونے کی صورت میں وزیر اعظم (بحیثیت چیئرمین جی بی کونسل) کا اختیار ہے کہ وہ کسی کو بھی نگران وزیر اعلیٰ تقرر کرے۔ اب تک کئی نام زیر گردش ہیں تاہم ہر جماعت اپنی پسند کا وزیر اعلیٰ دیکھنا چاہتی ہے جس کی وجہ سے ڈیڈلاک برقرار ہے۔ اسلام آباد میں حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات کے کئی راؤنڈ ہوئے ہیں لیکن ابھی تک کسی نام پر اتفاق نہ ہو سکا۔ دوسری جانب مقامی میڈیا میں آنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ نون لیگ کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمن چاہتے ہیں کہ ایسے کسی بھی شخص کو وزیر اعلیٰ نہ بنایا جائے کو ماضی میں کسی جماعت کا عہدیدار رہا ہو۔ ادھر گورنر سید مہدی شاہ بھی میدان میں کود پڑے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ چاہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ حاجی گلبر خان کے ذریعے اپنے پسندیدہ شخصیت کو نگران وزیر اعلیٰ بنایا جائے۔ اسلامی تحریک نے محمد علی قائد کو پینل میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایم ڈبلیو ایم اپوزیشن لیڈر کے ذریعے لابنگ کر رہی ہے۔ مختلف جماعتوں کی الگ الگ ترجیحات نے معاملے کو گھمبیر بنا دیا ہے اور یہ معاملہ وزیر اعظم کے میز پر پہنچنے کا امکان واضح ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حکومت اور اپوزیشن میں نگران وزیر اعلی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
تحریک انصاف کے رہنما شفیع جان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے، نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی کیمپین کر رہے ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی وزیر وہاں ہوتا تو الیکشن کمیشن حرکت میں آچکا ہوتا۔ الیکشن کمیشن کی یہ خاموشی ہمیں سمجھ نہیں آرہی۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے الحاق کیا تو اُس کو بھی کینسل کر دیا گیا اور ہمارے اُمیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کر دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام فیصلہ کر چکے ہیں، 7 جون کو تحریک انصاف کامیاب ہو گی۔ ہم اپنے ووٹ کو محفوظ بنانے کے مکینزم پر کام کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی ایک اور واردات کی تیاری کی جارہی ہے وہ ہم کرنے نہیں دیں گے۔ اس کے خلاف ہمیں اگر گلگت بلتستا ن بند کرنا پڑا تو یہ بھی کریں گے۔