کراچی میں رینجرز کی کارروائی، اسنیپ چیکنگ کے دوران 4 اسمگلرز گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ بس مالکان نے بسوں میں خفیہ خانے بنائے ہوئے ہیں، جو کہ نان کسٹم پیڈ اشیاء کی اسمگلنگ کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ رینجرز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے حب ریور روڈ ماڑی پور سے اسنیپ چیکنگ کے دوران مسافر بس سے 4 اسمگلرز کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق ترجمان سندھ رینجرز کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ گرفتار ملزمان میں حبیب اللہ، نوید احمد، ثناء اللہ اور ولی جان شامل ہیں۔ مسافر بس کے خفیہ خانوں سے 47 ہزار 680 پیکٹ نان کسٹم پیڈ سگریٹ، 4 موبائل فونز اور نقدی برآمد کی گئی ہے، گرفتار ملزمان نان کسٹم پیڈ اشیاء مسافر بس کے خفیہ خانوں میں چھپا کر بلوچستان ہزار گنجی بس اسٹینڈ سے کراچی یوسف گوٹھ بس اسٹینڈ لائے تھے۔
ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ بس مالکان نے بسوں میں خفیہ خانے بنائے ہوئے ہیں، جو کہ نان کسٹم پیڈ اشیاء کی اسمگلنگ کیلئے استعمال ہوتے ہیں، ملزم ولی جان یوسف گوٹھ بس ٹرمینل پر منشی ہے، جو کہ گاڑیوں میں خفیہ خانے بنوانے کے کام کو دیکھتا ہے۔ ملزم ثناء اللہ بلوچستان سے اشیا کو کلیئر کروانے اور سامان کوحب سٹی میں واقع گودام میں رکھوانے کا ذمہ دار ہے۔ بس مالکان اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ گرفتار ملزمان کو بمعہ برآمد شدہ سامان مزید قانونی کاروائی کیلئے کسٹم حکام کے حوالے کر دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نان کسٹم پیڈ
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔