افغانستان کے پاکستان میں دہشتگردانہ حملے قابل مذمت ہیں، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ کا خطاب میں کہنا تھا کہ اسلام آباد کچہری، کیڈٹ کالج پر حملے کرنیوالوں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، علم و انصاف پر حملہ کرنیوالے دراصل پاکستان کے روشن مستقبل پر حملہ کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ دارالعلوم جامعہ نعیمیہ لاہور کے ناظم اعلیٰ علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے افغانستان کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افعانسان اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے روکے، یہ جارحیت نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، بلکہ برادر اسلامی ملک کے وقار کو بھی مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ اسلام آباد کچہری اور وانا کیڈٹ کالج پر حملے کرنیوالوں مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ علم و انصاف پر حملہ کرنیوالے دراصل پاکستان کے روشن مستقبل پر حملہ کر رہے ہیں۔ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے اور ہمیشہ خطے میں امن، بھائی چارے اور باہمی احترام کے اصولوں پر کاربند رہا ہے۔ افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے روکے اور ایسے عناصر کی سرکوبی کرے جو دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ نعیمیہ میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے اسلام آباد کی کچہری اور جنوبی وزیرستان کے کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے مزید کہا کہ یہ بزدلانہ کارروائیاں ملک کے امن، قانون اور تعلیم دشمن عناصر کی عکاسی کرتی ہیں۔ بیگناہ شہریوں، وکلاء اور طلبہ کو نشانہ بنانا ظلم و بربریت کی بدترین مثال ہے، جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں، لیکن قوم ان کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
ڈاکٹر راغب نعیمی نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے ملکی سرحدوں کی حفاظت بخوبی جانتے ہیں تاہم پاکستان کی امن کی پالیسی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ افغان حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ ایسے اقدامات روکے جا سکیں جو خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کی کرتے ہوئے انہوں نے رہے ہیں پر حملہ
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔