عوامی ایکشن کمیٹی کا سپریم اپیلیٹ کورٹ کے چیف جج کی تقرری سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
اجلاس میں عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما نصرت حسین، شاکر قراقرمی اور میر بابر کی گرفتاری، شبیر مایار کی نظر بندی اور نمبردار جاوید کے قتل کے خلاف 21 نومبر بروز جمعہ پورے جی بی بالخصوص گھڑی باغ گلگت میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کا ایک اہم اجلاس گلگت کے ایک مقامی ہوٹل میں احسان علی ایڈووکیٹ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں مرکزی عہدیداران کے علاوہ ممبران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان میں غیر قانونی طور پر آئین اور گورننس آرڈر سے متصادم جج کی تعیناتی پر شدید غم و غصّے کا اظہار کیا گیا اور اس فیصلے کو آئین اور قانون کی دھجیاں اڑانے سے تعبیر کرتے ہوئے فیصلے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما نصرت حسین، شاکر قراقرمی اور میر بابر کی گرفتاری، شبیر مایار کی نظر بندی اور نمبردار جاوید کے قتل کے خلاف 21 نومبر بروز جمعہ پورے جی بی بالخصوص گھڑی باغ گلگت میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں گلگت بلتستان اسمبلی کے لئے انتخابات میں ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے حصہ نہ لینے پر اتفاق ہوا، البتہ تمام عہدیداران کو یہ حق حاصل ہوگی کہ وہ اپنی پارٹی یا الائنس کی شکل میں انتخابات میں حصہ لیں جس کی اخلاقی سپورٹ کی جائے گی۔ اجلاس کے آخر میں گلگت بلتستان سطح پر جلد از جلد یوتھ کنونشن بلانے پر اتفاق ہوا اور اس سلسلے میں کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو جلد از جلد تاریخ کا اعلان کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان اجلاس میں کرنے کا کیا گیا
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔