ہندوتوا کی آگ اور بھارت کا مستقبل
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251110-03-4
بھارت آج نریندر مودی کی قیادت میں انتہا پسندی، فرقہ واریت اور نفرت کے ایک ایسے دائرے میں داخل ہو چکا ہے جس سے واپسی مشکل دکھائی دیتی ہے۔ مودی سرکار کی ’’ہندوتوا‘‘ پالیسی نے بھارت کے سیکولر آئین، جمہوری روایات اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کو عملاً پامال کر دیا ہے۔ ایک قوم، ایک مذہب‘‘ کا یہ نعرہ درحقیقت بھارت کے اندر ایک مخصوص طبقے، ہندو بالادست گروہ کی حکمرانی قائم کرنے کا منصوبہ ہے، جس کے نتیجے میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ گزشتہ دنوں مختلف ہندو مذہبی رہنماؤں کی نفرت انگیز تقاریر، عسکری اداروں کے مذہبی انتہا پسند گروہوں سے تعلقات، اور سیاسی قیادت کی خاموش تائید نے اس حقیقت کو مزید آشکار کر دیا ہے کہ بھارت میں ہندوتوا اب محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ریاستی پالیسی بن چکا ہے۔ مختلف بیانات اور ویڈیوز میں دیکھی جانے والی کھلی دھمکیاں، جن میں اسلام کو دنیا سے ’’مٹانے‘‘ یا مسلمانوں کو ’’جڑ سے اکھاڑنے‘‘ کی باتیں کی گئیں، نہ صرف بھارتی سماج کے تانے بانے کو چاک کر رہی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہیں۔ بھارت میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریات دراصل اسی ہندوتوا فلسفے کی بنیاد ہیں۔ آر ایس ایس کے بانی ہیڈگیوار اور گولوالکر نے بیسویں صدی کے آغاز میں جو فکری بیج بویا، وہ آج مکمل درخت بن چکا ہے۔ ان کے نزدیک بھارت ’’ہندو راشٹر‘‘ ہے، جہاں دیگر مذاہب صرف اسی وقت برداشت کیے جا سکتے ہیں جب وہ ہندو تہذیب کے تابع ہو کر رہیں۔ نریندر مودی، جو خود آر ایس ایس کے تربیت یافتہ کارکن ہیں، اسی نظریے کو عملی شکل دے رہے ہیں۔ ان کی حکومت کے اقدامات، چاہے وہ آرٹیکل 370 کی منسوخی ہو، این آر سی اور سی اے اے جیسے امتیازی قوانین کا نفاذ، یا مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر پالیسی، سب اسی سوچ کے مظاہر ہیں۔ اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، جو خود کو ’’ہندو یووا واہنی‘‘ کے بانی کہلانے پر فخر محسوس کرتے ہیں، کھلے عام سناتن دھرم کے غلبے کی بات کرتے ہیں۔ ان کے بیانات سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ بھارتی سیاست میں مذہب اور ریاست کے درمیان لکیر مکمل طور پر مٹ چکی ہے۔ یہی وہ خطرناک رجحان ہے جس کے سبب بھارت میں نہ صرف سیاسی مخالفین بلکہ مذہبی اقلیتیں بھی نشانے پر ہیں۔ بھارت کے مسلمانوں کے لیے مودی کا دور ایک بھیانک خواب سے کم نہیں۔ گجرات 2002ء کے فسادات سے لے کر حالیہ دہلی اور منی پور کے واقعات تک، مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ گائے کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں بے گناہ مسلمانوں کا قتل، حجاب پر پابندی، مساجد کی بے حرمتی، اور مسلمانوں کے مکانات و کاروباروں کو بلڈوز کرنا، یہ سب ریاستی سرپرستی میں ہونے والے اقدامات ہیں۔ مودی حکومت کے دور میں بھارتی میڈیا کا کردار بھی انتہائی افسوسناک ہے۔ بیش تر ٹی وی چینل اور اخبارات حکومت کے پروپیگنڈا مشین کا حصہ بن چکے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات چلانا، انہیں ’’دہشت گرد‘‘ یا ’’ملک دشمن‘‘ کے القابات دینا عام بات بن چکی ہے۔ ایسے میں عوامی شعور کو مسخ کیا جا رہا ہے تاکہ اکثریتی طبقہ اقلیتوں کے خلاف مزید مشتعل ہو۔ یہی صورتحال تعلیمی اداروں میں بھی نظر آتی ہے۔ نصاب میں تاریخی حقائق کو مسخ کر کے ہندو راشٹر کے تصور کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کی علمی، ثقافتی اور تاریخی خدمات کو یا تو حذف کیا جا رہا ہے یا منفی رنگ میں پیش کیا جا رہا ہے۔ جمہوری ریاست میں عدلیہ، میڈیا اور پولیس وہ ستون ہوتے ہیں جو ظلم و زیادتی کے خلاف عوام کا تحفظ کرتے ہیں۔ لیکن بھارت میں یہ تمام ادارے ہندوتوا کے اثر میں آ چکے ہیں۔ جب مسلمانوں پر حملے ہوتے ہیں تو پولیس تماشائی بن جاتی ہے۔ مجرموں کو گرفتار کرنے کے بجائے مظلوموں پر مقدمات قائم کیے جاتے ہیں۔ عدالتیں اکثر ایسے مقدمات میں برسوں خاموش رہتی ہیں یا فیصلہ حکومت کے حق میں دیتی ہیں۔ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ عالمی برادری خصوصاً مغربی ممالک، جو خود کو انسانی حقوق کے چمپئن قرار دیتے ہیں، بھارت کے مظالم پر خاموش ہیں۔ اس کی بڑی وجہ معاشی مفادات اور بھارت کی منڈی کی کشش ہے۔ امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین سب مودی حکومت کے ساتھ تجارتی تعلقات کے نام پر انسانی حقوق کے اصولوں کو قربان کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹس بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں کے بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں، مگر کوئی عملی اقدام دیکھنے میں نہیں آتا ہے۔ اس ضمن میں یہ کہن اغلط نہ ہوگا کہ ہندوتوا کی آگ صرف بھارت کے اندر تک محدود نہیں رہے گی۔ اس کے شعلے خطے کے امن کو بھی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ بھارت کے اندر بھی دانشور، طلبہ، اور سول سوسائٹی کے کئی حلقے اس انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ لیکن ان کی آوازیں دبائی جا رہی ہیں، یا انہیں ’’غدار‘‘ اور ’’ملک دشمن‘‘ قرار دے کر جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے۔ ’’نئے بھارت‘‘ کے نام پر نفرت، تشدد اور تعصب کو قومی شناخت بنا دیا گیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے ظلم و جبر کو ریاستی پالیسی بنا لیا، اس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ نریندر مودی اور ان کے انتہا پسند ساتھی اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اقلیتوں کو دباکر بھارت کو مضبوط کر لیں گے، تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ ظلم وقتی طور پر طاقتور نظر آتا ہے، مگر اس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیا جا رہا ہے مسلمانوں کے بھارت میں حکومت کے بھارت کے کے خلاف
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔