عدالت عطمیٰ کا فل کورٹ اجلاس، رولز 2025 میں اہم ترامیم متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس منعقد ہوا جس میں سپریم کورٹ رولز 2025 میں ترمیم کی متفقہ طور پر منظوری دے دی گئی۔
اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا جس کے مطابق ترامیم کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کی گئیں۔ یہ کمیٹی سپریم کورٹ رولز 2025 کے آرڈر I کے رول 1(4) کے تحت قائم کی گئی تھی تاکہ رولز پر عملدرآمد کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا جائزہ لے کر انہیں دور کرنے کے لیے سفارشات پیش کی جا سکیں۔
اعلامیہ کے مطابق کمیٹی جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل تھی، جنہوں نے سپریم کورٹ رولز 1980 کا باریک بینی سے جائزہ لیا، سپریم کورٹ رولز 2025 کا مسودہ تیار کیا اور قوانین میں موجود پیچیدگیوں کو دور کرنے سے متعلق تجاویز مرتب کیں۔
فل کورٹ نے ہر رکن کی انفرادی طور پر مخلصانہ محنت کو سراہا اور ان کے کردار کو ’’اہم اور قابلِ تحسین‘‘ قرار دیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ رولز 2025 میں کی گئی اپ ڈیٹس کا مقصد بہتر سروس ڈلیوری، عدالتی نظام میں بہتری اور عوام کو سستا و جلد انصاف فراہم کرنا ہے۔
اجلاس میں فل کورٹ نے متفقہ طور پر ایڈووکیٹ محمد منیر پراچہ کو سپریم کورٹ رولز 2025 کے آرڈر IV کے رول 5 کے تحت سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کا درجہ دینے کی منظوری بھی دی۔
فل کورٹ نے اعلان کیا کہ سپریم کورٹ رولز 2025 کو باضابطہ طور پر اَپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ رولز 2025 فل کورٹ
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔