گلگت بلتستان اور چینی کمپنیوں کے مابین چار اہم منصوبے شروع کرنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
منصوبے کے تحت گلگت میں چینی مصنوعات اور کاشغر میں پاکستانی مصنوعات کے فروغ کے لیے ڈپارٹمنٹل اسٹورز قائم کیے جائیں گے۔ ابتدائی منصوبے کے تحت گلگت میں 6,000 مربع فٹ پر پائلٹ اسٹور قائم ہوگا جس سے سالانہ 14 سے 18 ملین روپے نیٹکو کو حاصل ہوں گے اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان میں سرکاری ٹرانسپورٹ کمپنی نیٹکو (NATCO) اور چین کی دو بڑی کمپنیاں Xinjiang Commercial Logistics Group (XCLG) اور Xinlu Transport کے اشتراک سے سرحد پار کاروباری ترقی کے لیے نیٹکو اور چینی اداروں کے مابین چار اہم منصوبے شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے جن سے سالانہ 70 سے 80 ملین روپے آمدن متوقع ہے۔ تفصیلات کے مطابق گلگت اور کاشغر میں ڈیپارٹمنٹل سٹورز قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس منصوبے کے تحت گلگت میں چینی مصنوعات اور کاشغر میں پاکستانی مصنوعات کے فروغ کے لیے ڈپارٹمنٹل اسٹورز قائم کیے جائیں گے۔ ابتدائی منصوبے کے تحت گلگت میں 6,000 مربع فٹ پر پائلٹ اسٹور قائم ہوگا جس سے سالانہ 14 سے 18 ملین روپے نیٹکو کو حاصل ہوں گے، جب کہ 12 سے 15 افراد کو روزگار فراہم کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت سوست، گلگت، اسلام آباد اور چین میں مشترکہ انفراسٹرکچر منصوبے شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے، سوست سے چین تک مسافر اور کارگو ٹرانسپورٹ کے لیے مشترکہ انفراسٹرکچر کی تعمیر تجویز کی گئی ہے۔ اس منصوبے سے نیٹکو کو 10 سے 14 ملین روپے سالانہ منافع متوقع ہے جبکہ کل سرمایہ کاری 250 سے 300 ملین روپے ہو گی۔
چینی سیاحتی کمپنی اور نیٹکو کے اشتراک سے ٹور پیکیجز متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ 30 گروپس پر مشتمل سیاحتی پروگراموں سے 40 ملین روپے سالانہ آمدن کا امکان ہے۔ منصوبے میں سوست اور کاشغر میں رہائشی پیکج متعارف کرانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ سیاحوں کے لیے رعایتی ہوٹل پیکیجز متعارف کرانے سے 3 سے 4 ملین روپے سالانہ آمدن متوقع ہے۔رپورٹ کے مطابق ان منصوبوں سے نیٹکو کو نہ صرف منافع بخش آمدن حاصل ہوگی بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، سیاحت کو فروغ ملے گا اور پاک۔چین تجارتی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔ ایم ڈی نیٹکو عزیز احمد جمالی کے مطابق معاہدوں سے مستحکم آمدن، اثاثوں کا بہتر استعمال، سیاحتی فروغ، اور بین الاقوامی سروس نیٹ ورک کی توسیع میں مدد ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جلد دو معاہدے کئے جائیں گے جبکہ دیگر دو معاہدے مذید مشاورت اور جائزے کے بعد کئے جائیں گے۔ نیٹکو اور چینی کمپنیوں کے درمیان سرمایہ کاری و شراکت داری کے چار معاہدے کرنے کی آج بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں منظوری دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: منصوبے کے تحت گلگت میں تجویز دی گئی ہے اور کاشغر میں ملین روپے جائیں گے اور چین کے لیے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔