عراق میں پارلیمانی انتخابات میں سیکیورٹی کامیاب، 12 ملین شہریوں نے ووٹ ڈالے
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بغداد: عراق میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے دوران سیکیورٹی پلان کامیابی سے نافذ کیا گیا اور معمولی واقعات کو فوری حل کیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عراق کی سپریم کمیٹی برائے انتخابی سیکیورٹی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل قیص المحمداوی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 12 ملین سے زائد عراقی شہریوں نے 329 نشستوں والی پارلیمنٹ کے لیے ووٹ ڈالے اور سیکیورٹی فورسز نے پولنگ کو محفوظ بنایا، ووٹ ڈالنے کے دوران چند معمولی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، جنہیں فوری طور پر نمٹایا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے ووٹنگ کے عمل میں مداخلت نہیں کی اور اس دوران کرکوک میں دو پولیس اہلکاروں کے قتل کے ذمہ دار مسلح افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
آزاد اعلیٰ انتخابی کمیشن نے تصدیق کی کہ ووٹ کے نتائج مقررہ وقت میں جاری کیے جائیں گے، 48 شکایات موصول ہوئی ہیں، جن میں 39 خصوصی ووٹنگ اور 9 عام ووٹنگ سے متعلق ہیں، نتائج ووٹ کے 24 گھنٹے کے اندر جاری کیے جائیں گے اور اپیلوں کے جائزے کے بعد باقاعدہ تصدیق کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔