میٹرک اور انٹر امتحانات میں بڑی پیش رفت، سندھ میں ای مارکنگ منصوبہ کی لانچنگ 4 دسمبر کو ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
کراچی:
وفاق کی مدد سے سندھ میں میٹرک اور انٹر کی سطح پر ای مارکنگ اسسمنٹ کے منصوبے کا باقاعدہ آغاز ہونے جارہا ہے، ای مارکنگ اسسمنٹ کی "لانچنگ" 4 دسمبر کو کراچی میں کی جارہی ہے جس میں ملک بھر سے 29 تعلیمی بورڈز کے سربراہان اور آئی بی سی سی کے حکام بھی شریک ہوں گے۔
اس موقع پر فیڈرل تعلیمی بورڈ سندھ کے تعلیمی بورڈز کو "ای مارکننگ اور اس متعلق اسکیننگ، بار کوڈ ،کیو آر کوڈ اور marking criteria " سے متعلق تمام سوفٹ ویئر حوالے کرے گا جس کا استعمال 2026 کے امتحانات میں ہوسکے گا۔
ادھر سندھ میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی سطح پر امتحانات کی "ای مارکننگ اور نتائج کی ڈیجیٹلائزیشن یا (ڈیجیٹل رزلٹ پراسسنگ) کے لیے ایک اعلی سطح کی کمیٹی بھی قائم کردی یے جسے digitization and technology implementation in education boards کا نام دیا گیا ہے۔
کمیٹی کا نوٹیفکیشن محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے سیکریٹری عباس بلوچ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق وزیر برائے جامعات و تعلیمی بورڈ کی منظوری سے قائم اس کے اراکین میں چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی، چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن شہید بینظیر آباد، سکھر تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اور محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے ایڈیشنل سیکریٹری شامل ہونگے۔
اس کمیٹی کے کنوینر اور چیئرمین اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی (بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن) فقیر محمد لاکھو نے "ایکسپریس" کو بتایا کہ ہم نے وفاق کو اس بات پر قائل کیا یے کہ جب وفاق پی ایچ ڈی اسکالر شپس کی مد میں پورے ملک کی جامعات کو فنڈز جاری کرسکتا ہے تو ای مارکننگ مکینزم ہمارے حوالے کیوں نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد یہ بات طے کی گئی ہے کہ آئی بی سی سی کے تعاون سے فیڈرل بورڈ یہ پورا مکینزم ہم سے شیئر کرے گا اور سندھ میں بھی اب آئندہ برس سالانہ امتحانات کی ای مارکنگ ہوگی خود انٹر بورڈ کراچی کے تحت سال 2026 کے سالانہ امتحانات میں انٹر سال اول پری انجینئرنگ اور پری میڈیکل میں ای مارکنگ ہوگی امتحانی کاپیوں کے ہر صفحے پر کیو آر کوڈ موجود ہوگا ہر صفحے کو اسکیننگ سے گزارا جائے گا اور ای مارکر جو ہمارا اساتذہ ہوں گے ان کے پاس امتحانی پرچے کا ایک سوال جائے گا کوئی بھی استاد ایک سے زائد سوال کی جانچ اور مارکنگ نہیں کرے گا اس طرح
ایک ہی کاپی کے مختلف سوالات اسسمنٹ کے کیے مختلف اساتذہ کے پاس ہونگے۔
علاوہ ازیں محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے تحت قائم کردہ کمیٹی کے جاری ٹی او آرز کے مطابق یہ کمیٹی ڈیجیٹلائزیشن، ای مارکنگ اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے سلسلے میں حکومت پاکستان کے ادارے آئی بی سی سی سے رابطہ کرے گی جس کے بعد "آن لائن انرولمنٹ سسٹم، ڈیجیٹل رزلٹ پراسس، ای مارکنگ اور سورس ڈیٹا منیجمنٹ اینڈ سرٹیفکیٹ ویریفیکیشن سسٹم " کو متعارف اور عملدرآمد کرانے کے لیے اپنی تجاویز پیش کرے گی۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی ڈاکٹر غلام علی ملاح نے بتایا کہ " ہم سندھ کے ہر بورڈ سے چار چار افراد پر مشتمل ٹیمیں آئندہ ہفتے اسلام آباد بلارہے ہیں جہاں ای مارکنگ کے حوالے سے ان کی تربیت ہوگی اور اس capacity building کے بعد سندھ کے بورڈ کو ڈیجیٹلائزیشن اینڈ ٹیکنالوجی ایمپلیمینٹیشن کے کیے ای مارکنگ سوفٹ حوالے کردیے جائیں گے"۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تعلیمی بورڈ بورڈز کے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔