—فائل فوٹو

سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے فائنل ایئر کے طالبعلم احمد کاشف رسول اور اشہد عباس فاطمی کی نماز جنازہ جمعرات کو ادا کردی گئی۔ 

احمد کاشف رسول کی نماز جنازہ ڈی ایچ اے فیز ون کی مسجد مصطفیٰ میں ادا کی گئی، بعد ازاں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ اور تدفین میں ڈاؤ کے اساتذہ، طلبہ اور عزیز و اقارب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ 

اشہد عباس فاطمی کی نماز جنازہ کنٹری گارڈن اپارٹمنٹ گلستان جوہر کی مسجد میں ادا کی گئی جبکہ اشارب منیر چوہدری کی میت ٹوبہ ٹیک سنگھ روانہ کردی گئی۔ 

جمعرات کو ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں سوگ کی کیفیت رہی اور طالب علم افسردہ دکھائی دیے۔

ڈاؤ یونیورسٹی کی وائس پرنسپل ڈاکٹر صباء سہیل کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی کی وائس چانسلر اور اساتذہ ڈوب کر جاں بحق ہونے والے طالب علم کی تعزیت کے لیے جمعے کو ان کے گھر پر جائیں گے اور اہلِ خانہ سے تعزیت کریں گے جبکہ یونیورسٹی کی جانب سے جاں بحق ہونے والے طلبہ کے لیے جمعے کے روز تعزیتی اجلاس معین آڈیٹوریم میں صبح 9 بجے ہو گا۔

علاوہ ازیں واقعے میں بچ جانے والے 3 طلبہ کو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا جہاں 2 طلبہ رضوان اور ربیع کو طبی امداد دے کر داخل کر لیا گیا ہے جبکہ ایک طالب علم عبدالمجید کو میڈیکل آئی سی یو منتقل کر دیا گیا ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نازلی حسین نے زیرِ علاج طلبہ کی طبی نگہداشت کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں جبکہ سول اسپتال کی انتظامیہ ان کی خصوصی نگہداشت کر رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ