جامعہ کراچی؛ اسکول آف لا کے طلبہ کا فیس کے معاملے پر احتجاج، امتحانات ری شیڈول
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
کراچی:
جامعہ کراچی اسکول آف لا کے طلبہ کی جانب سے فیسوں کی ادائیگی کے بغیر امتحانات میں شرکت کی اجازت کے معاملے پر احتجاج کی وجہ سے یونیورسٹی میں آمد و رفت کا سلسلہ مفلوج ہوگیا جہاں طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے یونیورسٹی کا فارمیسی چوک چاروں جانب سے بند کرکے احتجاج کیا تاہم وائس چانسلر نے امتحانات ری شیڈول کرکے ایک ہفتے کا موقع دے دیا۔
جامعہ کراچی میں دوپہر کو شروع ہونے والا احتجاج شام گئے تک جاری رہا، جس کے سبب یونیورسٹی کے کم از کم دو داخلی دروازوں مسکن اور کنیز فاطمہ سوسائٹی گیٹ کے راستوں پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔
کنیز فاطمہ سوسائٹی کی جانب سے یونیورسٹی کے اندر آنے والے طلبہ اور دیگر متعلقہ افراد اور ان کی گاڑیوں کو شعبہ کمپیوٹر سائنس سے پہلے ایک طویل جھاڑیوں کے درمیان ایک کچے راستے سے بائیو ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ کی جانب نکالا گیا اور اسی طرح کنیز فاطمہ گیٹ سے یونیورسٹی سے باہر جانے والے بھی اسی کچے راستے سے باہر جانے پر مجبور تھے اور مسکن سے آنے والے ٹریفک کو آئی بی اے سے قبل سیمسٹر سیل کے راستے اندر آنے کا راستہ ملا۔
یاد رہے کہ اسکول آف لا کے طلبہ نے ایک رات قبل بھی یونیورسٹی کے باہر سڑک بند کرکے احتجاج کیا تھا، منگل کو فارمیسی چوک بند کرنے والے اسکول آف لا کے طلبہ کا مطالبہ تھا کہ انہیں فیسوں کی ادائیگی کے بغیر سیمسٹر امتحانات میں شرکت کی اجازت دی جائے۔
ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے احتجاج میں شریک طالب علم حماد علی نے کہا کہ ہم نے انتظامیہ سے گزارش کی ہے کہ ہمیں امتحانات میں شرکت کرنے دی جائے اگر کوئی طالب علم فیس نہ دے تو اس کے نتائج روک دیے جائیں لیکن ہمارا آخری سیمسٹر ہے، ہمارے دو پرچے ہوچکے ہیں جس میں ہم شریک نہیں ہوئے ہمارا سال ضائع ہوگا اور بار کونسل کی رکنیت میں بھی تاخیر ہوگی۔
ادھر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر خالد عراقی نے بتایا کہ اسکول آف لا کے انچارج پروفیسر توحید کی تجویز پر ہم نے طلبہ کو اہک موقع دیا ہے اور 10ویں سیمسٹر کے طلبہ کے سیمسٹر امتحانات ری شیڈول کردیے ہیں اور امتحانات کو ایک یفتے آگے بڑھا دیا گیا ہے، اس ایک ہفتے میں یہ طلبہ فیسیں جمع کرسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ جامعہ کراچی کا مؤقف ہے کہ مذکورہ طلبہ کی جانب سے کئی کئی سیمسٹر کی فیسیں واجب الادا ہیں، یونیورسٹی پہلے ہی مالی خسارے میں ہے اور ہم نے انہیں سیمسٹر کلاسز کی اجازت پہلے ہی دے رکھی ہے تاہم اب فیسوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں امتحانات میں کسی بھی شعبے کے طلبہ کو شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسکول آف لا کے طلبہ امتحانات میں جامعہ کراچی کی اجازت کی جانب
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔