کراچی، رام سوامی میں ڈمپر حادثے نوجوان کی ہلاکت، چوتھا مقدمہ درج، دہشت گردی کی دفعات شامل
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے نشتر روڈ رام سوامی میں ڈمپر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار نوجوان کی ہلاکت کے واقعے کے بعد پولیس نے مختلف افراد کے خلاف چوتھا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
گارڈن پولیس نے اس واقعے میں ڈمپر کو آگ لگانے کے الزام میں ڈمپر کے مالک امیر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا۔
مقدمہ الزام نمبر 457/2025 میں دہشت گردی کی دفعات 147، 148، 149، 427 اور 453 شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کی تاریخ 6 نومبر اور وقت رات سوا بارہ بجے کا ہے۔ مقدمہ 20 سے 25 نامعلوم صورت شناس افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، جو اس واقعے میں ملوث ہیں۔
ڈمپر کے مالک نے ایف آئی آر میں کہا ہے کہ اس نے ڈمپر قسطوں پر ایک کروڑ 65 لاکھ روپے میں خریدا تھا اور اس کے ساتھ ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔
یہ حادثہ رام سوامی میں درج ہونے والا چوتھا مقدمہ ہے، اس سے پہلے تین مختلف مقدمات درج ہو چکے ہیں:
پہلا مقدمہ جاں بحق ہونے والے نوجوان شاہ زیب کے والد شاہد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جبکہ دوسرا مقدمہ سوشل ورکر عبدالقادر کی مدعیت میں ڈمپر ایسوسی ایشن کے مالک اور ان کے گارڈز کے خلاف درج ہوا۔
تیسرا مقدمہ سرکاری مدعیت میں پیکا ایکٹ کے تحت ایم کیو ایم کے رہنما کامران فاروقی کے خلاف درج کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مدعیت میں کے خلاف درج کیا
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں