data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: شہر قائد میں  ڈمپر حادثے میں نوجوان کی ہلاکت کا مقدمہ درج کرلیا گیا جب کہ ڈمپرز ایسوسی ایشن کے سربراہ نے سپر ہائی وے بند کرنے کی دھمکی دے دی۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گارڈن تھانے میں نوجوان شاہ زیب کی ہلاکت کا مقدمہ اس کے والد شاہد کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس کے بعد سماجی کارکن عبدالقادر نے بھی لیاقت محسود اور ان کے ساتھیوں کے خلاف دہشت گردی اور فائرنگ کے الزامات پر علیحدہ مقدمہ درج کرایا۔

عبدالقادر نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ لیاقت محسود دہشت گردوں کے ساتھ علاقے میں داخل ہوئے اور ان کے آتے ہی ہوائی فائرنگ شروع ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے نوجوانوں کو اب تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، ہم نے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے ان عناصر کو نامزد کیا ہے تاکہ مثال قائم کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد شہریوں کو چاہیے کہ جس علاقے میں بھی ایسے سانحات پیش آئیں، وہاں فوری طور پر مقدمات درج کرائیں تاکہ مجرموں کو کھلی چھوٹ نہ مل سکے۔

واقعے پر مختلف سیاسی رہنماؤں نے بھی ردعمل دیتے ہوئے شہریوں کو متحرک ہونے کی اپیل کی اور کہا کہ کراچی میں قانون شکنی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ اگر شہری متحد ہوکر ان واقعات کے خلاف آواز اٹھائیں تو انتظامیہ پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ فوری کارروائی کرے۔

دوسری جانب لیاقت محسود نے اپنے اوپر مبینہ حملے اور پولیس کی جانب سے عدم کارروائی پر احتجاجاً سپر ہائی وے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رامسوامی کے علاقے میں مشتعل افراد نے ان پر فائرنگ کی اور ان کی گاڑی کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ ترجمان ڈمپرز ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا کہ کار پر فائرنگ کے واضح نشانات موجود ہیں، لیکن پولیس نے تاحال حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا۔

ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر کارروائی نہ ہوئی تو منگل کو دوپہر دو بجے سپر ہائی وے کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ شہر کے امن و امان کے لیے خطرناک ہے، اس لیے حکومت اور انتظامیہ فوری طور پر نوٹس لے، مقدمہ درج کرے اور ملوث افراد کو گرفتار کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سپر ہائی وے اور ان کہا کہ

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد