پاک بھارت ٹیمیں ایک بار پھر مد مقابل آنے کو تیار
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
پاکستان اور بھارت کی ایمرجنگ کرکٹ ٹیمیں ایک بار پھر مد مقابل آنے کو تیار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایشیاء کے نوجوان کرکٹرز آئندہ ماہ دوحہ میں ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز 2025 میں مدمقابل ہوں گے۔
اے سی سی نے ایمرجنگ ایشیا کپ کا نام بدل کر ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز رکھا ہے جو 14 سے 23 نومبر تک ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلا جائے گا۔
اس دوران مجموعی طور پر 15 میچز کھیلے جائیں گے جن میں گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ایشیا کپ میں شریک آٹھ ٹیمیں ہی حصہ لیں گی۔
ایونٹ میں پاکستان، بھارت، افغانستان، سری لنکا، بنگلادیش، عمان، متحدہ عرب امارات اور ہانگ کانگ شامل ہیں۔
پاکستان اے اور بھارت اے کو ایک بار پھر ایک ہی گروپ میں یو اے ای اور عمان کے ساتھ رکھا گیا ہے۔
گروپ اے میں بنگلادیش اے، افغانستان اے، سری لنکا اے اور ہانگ کانگ شامل ہیں۔
پاکستان اور بھارت گروپ مرحلے میں 16 نومبر کو مدمقابل آئیں گے۔ ایونٹ میں سپر فور مرحلہ نہیں ہوگا لہٰذا پاکستان اور بھارت کے درمیان زیادہ سے زیادہ دو میچز ہی ممکن ہو سکیں گے۔
The stage is set, the stars are ready ????
From fiery clashes to fresh rivalries ~ it all unfolds in Doha, Qatar! ????????
Here’s your first look at the #DPWorldAsiaCupRisingStars2025 fixtures ????
Who will rise to the top? ????#ACC pic.
ہر گروپ کی دو ابتدائی ٹیمیں سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی، فائنل 23 نومبر کو کھیلا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ایڈیشن میں افغانستان نے فائنل میں سری لنکا اے کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :