190 ملین پاؤنڈ: سیشن جج کی تعیناتی چیلنج کرنے کا کیس نومبر کے دوسرے ہفتے میں لگانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کی تعیناتی چیلنج کرنے کے معاملے پر درخواست گزار اسامہ ریاض کی کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی متفرق درخواست منظور کر لی۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سرفراز ڈوگر نے متفرق درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے سیشن جج ناصر جاوید رانا کی تعیناتی چیلنج کرنے کا کیس نومبر کے دوسرے ہفتے میں لگانے کی ہدایت کر دی۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ناصر جاوید نے بانی پی ٹی آئی کو 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس میں سزا سنائی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل ریاض حنیف راہی نے کہا کہ اگر عدالت اجازت دے تو میں مرکزی کیس میں دلائل دینے کو تیار ہوں۔ جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سرفراز ڈوگر نے کہا کہ اسے نومبر میں سنیں گے، آج میری بھی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے وکیل سے سوال کیا کہ یہ معاملہ ہے کیا؟ کوئی آرڈر ہے؟ وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر ہے جس میں کہا گیا کہ ناصر جاوید رانا جوڈیشل سروس کے لیے اَن فٹ ہیں، یہ وہاب الخیری کا کیس تھا وہ اب اس دنیا میں نہیں، وہ زندہ ہوتے تو اس پر پہرہ دیتے اس لیے میں نے پٹیشن دائر کی ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سرفراز ڈوگر نے کہا کہ چلیں اس کو مقرر کر دیتے ہیں نومبر کے دوسرے ہفتے کے لیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائی کورٹ سرفراز ڈوگر نے نے کہا کہ چیف جسٹس
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،