افغانستان سے دراندازی ناکام، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 3 خوارج ہلاک، افغان بارڈر فورس کا اہلکار بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے بھارتی حمایت یافتہ گروہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، ہلاک ہونے والوں میں افغان سرحدی فورس کا اہلکار بھی شامل ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے 2 نومبر 2025 کو دو علیحدہ علیحدہ کارروائیاں کرتے ہوئے مؤثر اور کامیاب آپریشن کیے۔
سیکیورٹی فورسز نے کارروائیوں میں بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ پہلی کارروائی میں شمالی وزیرستان کے علاقے عیشام کے بالمقابل پاک افغان سرحد کے قریب ایک گروہ کی مشکوک نقل و حرکت دیکھی جو سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا، مؤثر اور درست نشانے پر مبنی فائرنگ کے نتیجے میں دو دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن کا تعلق بھارتی پراکسی گروہ فتنہ الخوارج سے تھا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق مارے جانے والے ایک دہشت گرد کی شناخت “خارجی قاسم” کے نام سے ہوئی جو افغان نژاد اور افغان بارڈر پولیس کا اہلکار تھا۔
ایک اور انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران ضلع ٹانک میں سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے ایک اور دہشت گرد خارجی اکرام الدین عرف ابو دجانہ کو ہلاک کیا، جو افغان شہری تھا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ واقعات پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی مسلسل شمولیت کو ظاہر کرتے ہیں، پاکستان کئی بار عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ سرحدی نظم و نسق کو مؤثر بنائے اور اپنی سرزمین کو خوارج یا دہشت گرد عناصر کے استعمال سے روکے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں آپریشن کلین اپ کا آغاز کر دیا ہے تاکہ کسی بھی بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج کو تلاش کر کے ختم کیا جا سکے۔
سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے “عزمِ استحکام” کے ویژن کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی انسدادِ دہشت گردی کی مہم پوری قوت سے جاری رکھیں گے اور ملک کے دفاع اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے پرعزم ہیں۔
صدر مملکت اور وزیراعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کی دراندازی ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پشت پناہی یافتہ فتنہ الخوارج کو شکست دینا پاکستان کے امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔
آصف زرداری نے کہا کہ دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے پر قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک “عزمِ استحکام” کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا ہک پاکستان اپنے دفاع، خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، دعا ہے کہ الّلہ وطنِ عزیز کو دہشت گردی اور ہر فتنے سے محفوظ رکھے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان اور ضلع ٹانک میں فتنتہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف الگ الگ کامیاب کاروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین کی۔
وزیراعظم نے آپریشنز میں فتنتہ الخوارج کے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پزیرائی، دہشت گردی کے خلاف عزم استحکام میں پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان ا ئی ایس پی ا ر دہشت گردوں کو فتنہ الخوارج دہشت گردی کے کو ہلاک نے کہا
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔