باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، پی ٹی آئی اور اے این پی رہنما کے قتل میں ملوث دہشتگرد مارا گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
فائل فوٹو
باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) رہنما کے قتل میں ملوث دہشتگرد مارا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں کوثر کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران دہشتگرد ضیاءالدین عرف ابراہیم ادریس مارا گیا، دہشتگرد ضیاءالدین متعدد ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگز میں ملوث تھا۔
دہشتگرد پی ٹی آئی رہنما ریحان زیب، اے این پی کےمولانا خان زیب، ڈپٹی کمشنر ناوگئی اور جے یو آئی کے ارکان کے قتل میں بھی شامل تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مارے گئے دہشت گرد نے متعدد پولیس اہلکاروں کو بھی قتل کیا، دہشت گرد ضیاء الدین طالبان کے کابل پر قبضے سے قبل افغان جیل میں قید تھا، طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دہشتگرد ضیاء الدین کو رہا کر دیا گیا تھا۔
دہشت گرد ضیاء الدین 2023 میں افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوا تھا، دہشتگرد ضیاءالدین کی ہلاکت سے داعش خراسان کےنیٹ ورک کو بڑا دھچکا لگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک