سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے بھارتی منصوبہ ناکام بنا دیا، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی پریس کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کی ناکامی کے بعد جھوٹی معلومات اور پروپیگنڈے کی مہم شروع کر دی ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ بھارتی میڈیا پاک بھارت کشیدگی کے دوران ہمیشہ بے بنیاد دعوے کرتا رہا، کبھی کہا گیا کہ لاہور بندرگاہ تباہ کر دی گئی اور کبھی ملتان بندرگاہ پر حملے کے دعوے سامنے آئے، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز نے ایک شخص اعجاز ملاح کو گرفتار کیا اور بھارتی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے اسے پاکستان کے خلاف کام کرنے پر مجبور کیا۔
اعجاز ملاح کو یہ ہدایت دی گئی کہ وہ پاکستان آرمی کی وردیاں، پاکستانی کرنسی، سگریٹ اور ماچسیں اپنے ساتھ لائے تاکہ بھارت ان اشیا کے ذریعے پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کر سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اعجاز ملاح کو گرفتار کرلیا، جس سے بھارتی منصوبہ ناکام ہوگیا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ بھارت پاکستان کی فوجی اور سفارتی کامیابیاں برداشت نہیں کر پا رہا، اسی لیے وہ من گھڑت بیانیہ بنا کر عالمی سطح پر گمراہ کن مہم چلا رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران اعجاز ملاح کی ویڈیو بھی میڈیا کے سامنے پیش کی گئی۔
عطا تارڑ نے کہا کہ بھارتی پروپیگنڈہ بے نقاب ہو چکا ہے، پاکستان اپنی سرزمین اور قومی بیانیے کے دفاع کے لیے ہر سطح پر مؤثر اقدام کرتا رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کہا کہ بھارت وفاقی وزیر اعجاز ملاح نے کہا کہ عطا تارڑ تارڑ نے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔