data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251029-08-19
حیدرآباد (نمائندہ جسارت) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریکے ایک وفد نے صدر محمد سلیم میمن کی ہدایت پر سینئر نائب صدر احمد ادریس چوہان کی سربراہی میںاسٹیٹ بینک آف پاکستان حیدرآباد کی جانب سے منعقدہ ایس ایم ای مینٹور شپ پروگرام میں شرکت، جس کا مقصد خواتین کے کاروباری مواقع میں اضافہ، مالی شمولیت اور کاروباری رہنمائی فراہم کرنا تھا۔ پروگرام میں خواتین اسٹارٹ اپس اور کاروبار کے آغاز کی خواہشمند خواتین کے لیے تربیتی و رہنمائی سیشنز رکھے گئے، جن میں انہیں آن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال، کمپنی رجسٹریشن، ٹیکس کے امور، مالیاتی تیاری، بینکنگ پروڈکٹس اور دیگر متعلقہ موضوعات پر عملی آگاہی فراہم کی گئی۔سینئر نائب صدر احمد ادریس چوہان نے اپنے خطاب میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی خواتین کے کاروبار کے فروغ کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی یہ کوششیں خواتین کی معاشی خودمختاری کی جانب ایک مضبوط قدم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے پروگرامز نہ صرف آگاہی کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ خواتین کو عملی میدان میں آنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام کمرشل بینکوں کو بھی اسی طرز کے تربیتی پروگرامز منعقد کرنے چاہئیں تاکہ خواتین کو مالیاتی نظام تک آسان رسائی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی خواتین کی فعال شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔نائب صدر شان سہگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ کاروباری طبقہ اور بینکاری شعبہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اور ان دونوں کے اشتراک سے ہی علاقائی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر ہمیشہ اسٹیٹ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک کی انتظامیہ کو ایسے شاندار پروگرام کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کیا اور تمام خواتین شرکاء کو ان کے عزم اور کاروباری جذبے پر سراہا۔پروگرام کی میزبانی صبغت اللہ لوناری نے کی، جبکہ اسسٹنٹ چیف منیجر اسٹیٹ بینک پاکستان عدیل ظہور کھوکھر اور ڈپٹی چیف منیجر عبدالغفور نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔انہوں نے اپنے خطابات میں خواتین کو مالی نظام میں شامل کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کے اقدامات، ایس ایم ایز کے لیے جاری مختلف سہولتیں اور خواتین کے لیے خصوصی اسکیمز پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ عدیل ظہور کھوکھر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا مقصد خواتین کاروباری طبقے کو مالیاتی نظام میں مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بآسانی قرضہ جات اور دیگر مالی سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔پروگرام میںچیمبر کے وفد میں کنوینرز شیخ احمد حسین، یاسین خلجی، ایوب شیخ اور وومن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندگان ، بینک، این جی اوز و دیگر کاروباری خواتین بھی موجود تھے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک خواتین کے انہوں نے کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار