آئی ایم ایف کی جانب سے جاری 1.2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں منتقل
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے حالیہ قرضہ جائزے کی منظوری دیتے ہوئے 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کر دی ہے، جو فوری طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو گئی۔ اس قسط کے ساتھ پاکستان کے IMF پروگرام کو روانی میں رکھنے اور ملک کے ذخائر مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن ہے، تیمور سلیم جھگڑا
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے حالیہ قرضہ جائزے کی منظوری دے دی ہے اور 1.
اس قسط میں ایک ارب ڈالر پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے Extended Fund Facility (EFF) اور 200 ملین ڈالر Resilience and Sustainability Facility (RSF) کے تحت شامل ہیں۔ اس کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت اب تک پاکستان کو تقریباً 3.3 ارب ڈالر کی رقم موصول ہو چکی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے حالیہ سیلابوں کے باوجود مضبوط اصلاحاتی اقدامات کیے ہیں، اور حکومت کو ریونیو بڑھانے اور سرکاری کمپنیوں کی نجکاری میں تیزی لانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اس فیصلے سے پاکستان کے ذخائر مستحکم ہوں گے اور ملک میں مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں مدد ملے گی، جبکہ آئی ایم ایف نے محتاط اقتصادی پالیسیوں اور فوری موسمیاتی اثرات کے خلاف اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایم ایف اسٹیٹ بینک پاکستان قرض کی قسط
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف اسٹیٹ بینک پاکستان قرض کی قسط ا ئی ایم ایف پاکستان کے اسٹیٹ بینک ارب ڈالر
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند