پاکستان کے لیے جاسوسی،بھارتی فضائیہ کاسابق افسرگرفتار
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تیز پور:پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں بھارتی فضائیہ کا سابق افسر گرفتار۔
آسام میں سونیت پور پولیس نے ہندوستانی فضائیہ کے ایک ریٹائرڈ جونیئر وارنٹ آفیسر کو مبینہ طور پر پاکستانی جاسوسی نیٹ ورک سے منسلک افراد کے ساتھ دفاع سے متعلق حساس معلومات شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
ملزم کی شناخت تیز پور کے رہنے والے کولندر شرما کے طور پر کی گئی ہے، اسے قابل اعتماد انٹیلی جنس ان پٹ کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ سونیت پور کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہریچرن بھومیج نے جمعہ کو یہ تفصیلات بتائی ۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان نے حساس دستاویزات اور معلومات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بالخصوص واٹس ایپ کے ذریعے شیئر کی تھیں۔
مبینہ طور پر اس کا موبائل فون مشتبہ پاکستانی جاسوسوں کے ساتھ بات چیت اور ڈیٹا کا تبادلہ دکھاتا ہے تاہم معلومات کے تبادلے کا صحیح وقت ابھی تک معلوم نہیں ہے۔
پولیس نے شرما کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ اپنے قبضے میں لے لیا ہے، جسے فارنسک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
تفتیش کاروں نے پایا کہ کچھ ڈیٹا کو حذف کر دیا گیا ہے، جس کے لیے تفصیلی فرانزک تجزیہ کی ضرورت ہے۔
تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 147، 148، 152، 238، اور 61 (2) کے تحت تیز پور صدر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
شرما نے 2002 میں ریٹائر ہونے سے پہلے سلونی باڑی، تیز پور میں ہندوستانی فضائیہ کے اڈے پر ایک وارنٹ افسر کے طور پر خدمات انجام دیں، وہ تیز پور کے پٹیا سبوری علاقے کا رہنے والا ہے۔
پولیس نے واضح کیا کہ اگرچہ ابھی تک اس بات کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ شرما کے پاکستان سے براہ راست روابط ہیں۔
شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ جاسوسی ایجنٹوں کے ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بات چیت ہوتی ہے، تحقیقات کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تیز پور کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔